تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 456
تاریخ احمدیت - جلد ۶ یمه کو حسد کی آگ میں جلانے کا موجب ہوتا ہے پھر کیا وہ ان سب باتوں سے ہم لوگوں کو دفعہ ۱۰۷ کے ماتحت روک دیں گے۔آخر وہ کون سا ما بہ الامتیاز ہے جس سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ جلسہ میں امن سے نوٹ لینے پر تو وہ نوٹس دے سکتے ہیں لیکن اوپر کی باتوں پر نہیں۔پس اس نوٹس نے بتا دیا ہے کہ آئندہ کے لئے کسی قسم کی آزادی احمدی جماعت کو حاصل نہیں ہو گی کیونکہ حکومت نے اس نوٹس دینے والے کے خلاف اب تک کوئی کارروائی نہیں کی۔حالانکہ اس حد تک یہ معاملہ پہنچ چکا ہے پس ہم مجبور ہیں کہ یہ سمجھیں کہ کم سے کم اس ضلع کی حکومت احراری ہے اور یہ برطانیہ نہیں بلکہ اس کے بعض مجسٹریوں کے ذریعہ سے احرار حکومت کر رہے ہیں۔آٹھواں واقعہ آٹھواں واقعہ یہ ہے کہ قادیان کے کچھ غیراحمد ی لوگ احراریوں کے برے رویہ سے تنگ آکر اور کچھ ہمارے آدمیوں کے کہنے پر کہ تمہارے تعلقات ہمارے ساتھ اچھے ہیں تم کیونکر ہماری نسبت احرار کی گالیوں کو برداشت کرتے ہو اس بات پر آمادہ ہو گئے کہ وہ جمعہ الگ پڑھیں۔چنانچہ انہوں نے فیصلہ کیا کہ آئندہ سے وہ لوگ اس محلہ کی مسجد میں جمعہ پڑھا کریں جو قادیان کے شمال کے آخری سرے پر ہے اور خوجوں والی مسجد کہلاتی ہے۔مسجد ارائیاں جس میں احراری جمعہ پڑھتے ہیں وہ قادیان کے جنوب کی طرف ہے گویا دونوں ایک دو سرے سے مخالف سمت پر اور کافی فاصلہ پر ہیں اور ایک جگہ کی آواز دوسری جگہ تک نہیں پہنچ سکتی اور نہ ایک مسجد میں داخل ہونے والے دوسری مسجد میں داخل ہونے والوں کو دیکھ سکتے ہیں۔یہ دونوں مسجد میں اس وقت غیر احمدیوں کے قبضہ میں ہیں۔جہاں تک مجھے یاد ہے بعض اوقات خوجوں والی مسجد میں بھی جمعہ ہو تا رہا ہے۔مگر اب کچھ عرصہ سے غالبا وہاں جمعہ نہیں ہو تا تھا۔جن لوگوں نے یہ فیصلہ کیا کہ جمعہ الگ پڑھا جائے۔ان کے متعلق احرار یہ کب برداشت کر سکتے تھے کہ وہ ان سے علیحدہ ہو جا ئیں۔اس پر فور احکام کو تار دی گئی کہ احمدی ہماری مسجد پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں اور مقامی پولیس نے بھی مجسٹریٹ علاقہ کو تار دی کہ احمدی مسجد پر فساد کر رہے ہیں۔مجسٹریٹ صاحب قادیان آئے اور آتے ہی جمعہ پڑھنے والوں کو سختی سے روک دیا کہ وہ انہیں اس مسجد میں جمعہ نہیں پڑھنے دیں گے۔اب دیکھو کس قدر دروغ بیانی سے اس واقعہ میں کام لیا گیا ہے نہ کسی احمدی نے حملہ کیا نہ احمدیوں نے مسجد سے کسی کو روکا۔اور نہ جمعہ پڑھنے والے احمدی تھے مگر تاریہ دی گئی کہ احمدی فساد کرنے لگے ہیں۔حالانکہ اس موقعہ پر صرف دو احمدی تھے ایک نمبردار جس کی نسبت خود ہیڈ کانسٹیبل نے تسلیم کیا کہ وہ اسے خود مدد کے لئے لے گیا تھا اور دوسرا میونسپل کمیٹی کا کلرک جسے ہیڈ کانسٹیبل تسلیم کرتا ہے کہ وہ خالی کھڑا تھا اور یہ کہ اس نے تار لکھوانے میں اس سے مدد لی۔اس واقعہ کا نام احمدیوں کا فساد رکھ دیا گیا۔ہمارے جو آدمی اس موقعہ پر