تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 448
تاریخ اجر مردم سلام مروم لیتے ہیں یہ پھاٹک جس کا میں نے ذکر کیا ہے اس راستہ پر لگایا گیا تھا جو مقبرہ بہشتی کو جاتا ہے۔ہماری تحقیق اور ہمارے علم کے مطابق وہ پھاٹک ہماری زمین میں ہے اور جس راستہ پر وہ لگایا گیا ہے وہ ہمارا پرائیویٹ ہے نہ کہ سرکاری۔مگر اس پھاٹک کے لگنے پر یک دم ایک شور پڑ گیا اور تمام احراری غیر احمدیوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ احمدیوں نے ہمارے راستے بند کر دیے ہیں۔۔۔۔۔حالا نکہ وہ سڑکیں نہیں تھیں۔اس پر پولیس کے اعلیٰ افسر یعنی سپر نٹنڈنٹ پولیس بھی چند مرتبہ آئے۔بعض مجسٹریٹ بھی متعدد دفعہ آئے اور کہنے لگے کہ یہ کیا ظلم کیا گیا ہے۔ایک افسر مجھ سے بھی ملا اور کہنے لگا یہ کیا غضب ہوا ہے کہ خواہ مخواہ لوگوں کا راستہ روک دیا گیا ہے۔میں نے کہا اس میں مشکل کیا ہے ؟ پٹواری آپ کے پاس ہیں زمین کا نقشہ نکلوا لیجئے اگر یہ پھاٹک کسی اور کی زمین میں نکلے اور ایک منٹ کے لئے بھی ہماری جماعت اس کو اٹھانے میں دیر کرے تو میں اس کا ذمہ دار ہوں گا۔مگر اس کی طرف کسی نے توجہ نہ کی۔ایک افسر آتا اور دھمکی دے کر چلا جاتا۔پھر دوسرا آتا اور وہ دھمکی دے کر چلا جاتا۔جب یہ شور بہت بڑھا تو میں نے صدرانجمن والوں سے پوچھا کہ یہ آپ لوگوں نے کیا کیا ہے تو انہوں نے بتایا کہ ہم نے اچھی طرح دیکھ بھال کر پھاٹک لگایا ہے وہ ہماری زمین میں ہے ڈسٹرکٹ بورڈ کی زمین میں نہیں ہے لیکن اگر ثابت ہو جائے کہ یہ سرکاری زمین میں ہے تو ہم اسی وقت پھاٹک اٹھا لیں گے انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم نے افسروں کے سامنے یہ بات پیش کی ہے کہ کوئی افسر آجائے تو وہ تحقیق کر کے دیکھ لے لیکن تحقیق کرنے کے لئے کوئی نہیں آتا۔البتہ ضلع کا عملہ گھبرایا ہوا پھرتا ہے۔حالانکہ اس کا فوجداری اور پولیس سے کوئی تعلق نہ تھا۔اس زمانہ میں مجھ سے بھی ایک اعلیٰ افسر نے کہا تھا کہ جو شور اس وقت ہو رہا ہے اس کے نتیجہ میں میں ڈرتا ہوں کہ حکومت سخت تجاویز اختیار کرنے پر مجبور ہو گی۔میں نے کہا ہم تو اپنی طرف سے باامن رہنے کی کوشش کرتے ہیں اگر اس پر بھی حکومت کا یہ خیال ہو تو ہم مجبور ہیں۔اب مہینہ دو مہینہ ہوئے کہ ایک افسر یہاں آیا اور ڈسٹرکٹ کمشنر صاحب کے حکم سے لوکل کمیٹی کے پریذیڈنٹ سے وہ یہ دستخط لے کر گیا کہ پندرہ دن کے اندر اندر پھاٹک کو اٹھا دیا جائے۔ڈسٹرکٹ بورڈ کے پریذیڈنٹ ہونے کے لحاظ سے ایک ڈپٹی کمشنر کو فوجداری اختیارات حاصل نہیں ہوتے۔پھر یہاں نہ تحقیقات ہوئی اور نہ ہی محسیین ہوئی اور خود بخود یہ حکم دے دیا گیا کہ پندرہ دن کے اندراندرا سے اٹھا دیا جائے۔اس پر یہاں کے ایک مالک نے تحصیلدار صاحب کو لکھا کہ میر قاسم علی صاحب کا اس معاملہ سے کوئی تعلق نہیں اگر کوئی نوٹس دیا جاتا ہے تو مالکان یا صدرانجمن کو دینا چاہئے۔ہم میر قاسم علی صاحب لوکل پریذیڈنٹ کے اس وعدہ کے پابند نہیں ہو سکتے۔اب وہ پندرہ دن بھی گزر گئے ہیں اور پھاٹک ابھی تک نہیں اٹھایا گیا۔میں