تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 449
تاریخ احمدیت جلد ۶ ۴۳۵ پوچھتا ہوں کہ کیا اپنی زمینوں میں پھاٹک نہیں لگائے جاتے؟ اگر تو کسی پلک تھرو فیئر (THOROUGH FARE) میں یہ پھاٹک روک ہو تا یا گورنمنٹ کا اس میں کوئی راستہ ملتا تب تو یہ مطالبہ کیا جا سکتا تھا کہ اس پھاٹک کو اٹھا لیا جائے۔لیکن جبکہ وہ ہمارے نزدیک ہماری زمین میں واقع ہے اور ڈسٹرکٹ بورڈ نے ابھی تک اپنا حق ثابت نہیں کیا اور اگر اس کا حق ثابت بھی ہوا تو بھی صرف یہ ہو گا کہ وہ پھاٹک پانچ فٹ دورے لگ جائے گا۔پالک کو کوئی نیا راستہ نہ مل جائے گا۔پھر میں نہیں سمجھتا کہ اسے اس قدر اہم فوجداری سوال کس طرح بنا دیا گیا اور کیوں اس واقعہ کی اطلاع پہنچتے ہی پولیس اور مجسٹریٹوں کے اندر ہیجان پیدا ہو گیا۔پس اس واقعہ سے بھی صاف طور پر پتہ لگتا ہے کہ ہمیں دق کرنے کی منتظم کوشش کی جارہی تھی۔اور اس کارروائی کا ہمیں چھیڑنے کے سوا کوئی منشاء نہ تھاورنہ کجاؤ سٹرکٹ بورڈ کے چند فٹ کی زمین کا جھگڑا اور کجا حکومت کی دھمکیاں اور فوجداریاں۔تیسرا واقعہ یہ ہے کہ ہمارے جلسہ سالانہ ۱۹۳۳ ء پر احراری غیر احمدیوں نے بھی اپنا تیرا واقعہ ایک جلسہ کیا۔۲۸/ دسمبر کو ہمارا جلسہ ختم ہوا۔اور ۲۹/ کو ان کا جلسہ ہوا۔اس کے متعلق جیسا کہ قاعدہ ہے گورنمنٹ کو فکر ہوا کہ کہیں کوئی فسادنہ ہو جائے۔چنانچہ مجسٹریٹ صاحب علاقہ آئے اور ناظر صاحب امور عامہ سے خواہش کی کہ آپ اپنے آدمیوں کو وہاں جانے سے روک دیں۔ناظر صاحب نے وعدہ کیا کہ ہم اپنی جماعت کے لوگوں کو روک دیں گے۔چونکہ ہمارے جلسہ میں ۱۵- ۲۰ ہزار کے قریب آدمی باہر سے شامل ہوتے ہیں اور چھ سات ہزار کے قریب قادیان کے رہنے والے ہوتے ہیں اور اتنے آدمیوں کو حکم سے آگاہ کرنا اور ان سے تعمیل کروانا بہت مشکل کام ہے اس لئے محکمہ کی طرف سے علاوہ لوگوں کو روکنے کے یہ تجویز بھی کی گئی کہ گلی کے دونوں طرف آدمی مقرر کر دیئے جائیں تاکہ جن احمدیوں کو وہ پہچانیں انہیں جلسہ میں نہ جانے دیں اور ایک آدمی کو مسجد کے سامنے کھڑا کر دیا گیا تا کہ اگر کوئی بھول کر آہی جائے تو اسے واپس کر دیا جائے۔یہ شخص مرکزی محکمہ کا ایک کلرک تھا جو زیادہ احمدیوں سے واقف تھا پس جو احمدی وہاں جاتا اسے وہ صاحب کہہ دیتے کہ یہاں جانے کی آپ کو ممانعت ہے۔اس کام کے دوران اس دوست نے جو دروازہ پر مقرر تھے معلوم کیا کہ احراریوں کی طرف سے چیلنج دیا جا رہا ہے کہ فلاں بات کا جواب احمدی دیں اور اس پر انہوں نے ایک رقعہ ناظر دعوت و تبلیغ کو لکھا کہ بہتر ہو کسی مبلغ کو بھجوا دیا جائے اس پر ناظر صاحب نے مولوی محمد سلیم صاحب کو جو ہو نہار نوجوان یونیورسٹی کے گریجوایٹ اور جماعت کے ہوشیار مبلغوں میں سے ایک مبلغ ہیں وہاں بھیج دیا جنہوں نے چیلنج کے جواب میں رقعہ لکھا کہ کیا ہم بول سکتے ہیں ؟ اور جواب نفی میں ملنے پر وہ امن اور خاموشی کے ساتھ اٹھ کر چلے آئے اسی عرصہ میں پولیس والوں نے