تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 447 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 447

تاریخ احمدیت جلد ۶ ۳۳وم زمین مل سکتی ہے ہمیں تو لوگ تعصب سے دیتے نہیں لیکن کچھ شنوائی نہ ہوئی اس واقعہ کو اور اس واقعہ کو ملا کر دیکھ لو کہ کس طرح حکومت ہم سے سوتیل پنے والا سلوک کر رہی ہے۔ہماری مسجد کی زمین ضبط کرلی جاتی ہے اور احراری خلاف قانون ایک عمارت بنانا چاہتے ہیں تو سپیشل آرڈر دیا جاتا ہے کہ فورا ان سے درخواست لے کر اجلاس کر کے اس تعمیر کی اجازت دی جائے۔چنانچہ ایک پولیس کے اعلیٰ افسر یعنی سپرنٹنڈنٹ صاحب پولیس اور ایک علاقہ مجسٹریٹ یہاں آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اپنے ممبروں کو حکم دیجئے کہ وہ فورا اس مسجد کی تعمیر کی اجازت دے دیں حالانکہ وہ سمال ٹاؤن کس بات کی ہے جس سے ہمارے زور سے کام لیا جائے جس سمال ٹاؤن کمیٹی کو ہم سے حکم دلوادلوا کر مجبور کرنا اور اس کے فرائض منصبی سے روکنا ہے وہ کمیٹی نہیں بلکہ کھلونا ہے اور اس قابل ہے کہ اسے پھونک دیا جائے لطیفہ یہ ہے کہ ہمارے امن پسندوں نے یہ سمجھتے ہوئے کہ چونکہ ہمیں امن پسندی کی تعلیم دی گئی ہے۔اس لئے حکام کی خواہش کو ہمیں پورا کرنا چاہئے۔اپنی جماعت کے ممبران کمیٹی پر زور ڈالا کہ یہ کام جلدی کر دیا جائے غرض صنادید حکومت کی خوشنودی مزاج کے حصول کے لئے انہوں نے یہ سب کچھ کیا۔مگر جو اس کا انعام ملا وہ بھی سن لو۔اس موجودہ جھگڑے کے پیدا ہونے پر ہمارے آدمیوں نے ڈپٹی کمشنر صاحب کے سامنے کہا کہ ہم تو ہمیشہ حکومت کے وفادار رہے ہیں۔مثلاً حکام کے کہنے کے مطابق ہم نے سمال ٹاؤن کمیٹی کے ممبروں پر زور دیا اور انہیں کہا کہ احرار کو مسجد کی تعمیر کی اجازت دے دینی چاہئے۔تو اس پر ڈپٹی کمشنر صاحب نے کہا کہ نہ علاقہ مجسٹریٹ اور نہ سپرنٹنڈنٹ پولیس کو اختیار تھا کہ ایسا حکم کمیٹی کو دیتے۔یہ کہنے پر کہ سپرنٹنڈنٹ صاحب پولیس تو کہتے تھے کہ ڈپٹی کمشنر کا منشاء ہے کہ اس جھگڑے کو چکایا نہ جائے تو فریقین کی زیر دفعہ ۰۷ اعضمانتیں لی جائیں۔انہوں نے کہا کہ جس شخص نے یہ کہا ہے کہ میں نے ایسا حکم دیا تھا وہ جھوٹ بولتا ہے۔اب ہمارے لئے عجیب مشکلات ہیں۔اگر ہم اس وقت انکار کرتے تو ہم باغی قرار دیئے جاتے اور پولیس کے افسر یہ رپورٹ کرتے کہ احمدی ہمارے ساتھ تعاون نہیں کرتے اور جب ہم نے ان کی بات مان لی تو ہم احمق اور بے وقوف قرار دیئے گئے اور کہا گیا کہ تم نے خود ہی یہ فیصلہ کیا ہے ہم نے تو کوئی ایسا حکم نہیں دیا۔پس ہم اگر ایک حکم مان لیں تو احمق بنتے ہیں نہ مانیں تو باغی قرار پاتے ہیں۔۔۔۔۔دوسرا واقعہ اب دو سرا واقعہ سن لو۔ہم نے جو یہاں نئی آبادیاں قائم کی ہیں ان میں بعض جگہ علاقوں کے علاقے ہمارے اپنے ہیں اور ان محلوں کی گلیاں ہماری پرائیویٹ گلیاں ہیں جن پر گزرنے دینا یا نہ دینا ہمارے اختیار میں ہے۔اس قسم کے ایک راستہ پر ایک پھاٹک ہم نے لگا لیا اور یہ کوئی نئی بات نہ تھی ہندو بھی اسی طرح اپنے محلوں میں راستوں پر حفاظت کے لئے پھاٹک لگا