تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 446 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 446

تاریخ احمد بیت - جلد ۶ عار مردم اس تعمیر کے وقت پولیس کے آدمی باور دی اس جگہ پر موجود تھے۔اس قانون شکنی کو دیکھ کر کمیٹی نے انہیں ممانعت کا نوٹس دیا۔تو اسے لینے سے بھی انکار کر دیا اور اٹھا کر پھینک دیا۔اسٹنٹ سب انسپکٹر پولیس نے اسے اٹھایا یہ سب کارروائی گورنمنٹ کے ایک تسلیم شدہ ادارہ کی طرف سے اور گورنمنٹ کے قانون کو پورا کرانے کے لئے ہوئی اور اس میں ہماری جماعت کا ایک ذرہ بھر بھی دخل نہ تھا لیکن صرف اس وجہ سے کہ کمیٹی کا نوٹس پیش کرنے والا کلرک احمدی تھا۔احراریوں نے شور مچا دیا کہ احمدی ہم پر حملہ کرنے آگئے ہیں اور ہمیں مسجد کی تعمیر سے روکتے ہیں۔یہ سب کہانی بالکل جھوٹی تھی احمدی حملہ آور ہو کر نہیں گئے اور کسی نے ان کو مسجد بنانے سے نہیں روکا۔سمال ٹاؤن کمیٹی گورنمنٹ کے قانون کے ماتحت بنی ہوئی ہے اور اسی کے ایک افسر نے گورنمنٹ کے بنائے ہوئے قوانین کے ماتحت انہیں روکا۔مگر یہ روکنا کیا تھا گویا ۱۸۵۷ء کا غدر ہو گیا کہیں سپرنٹنڈنٹ پولیس چلے آرہے ہیں کہیں مجسٹریٹ علاقہ چلے آرہے ہیں۔کہیں پولیس کے دوسرے افسر دو ڑے آ رہے ہیں گویا ایک آفت تھی جو آگئی ناظر امور عامہ کو بلوایا گیا اور ان سے بار بار پوچھا گیا کہ یہ کیا ظلم اور اندھیر ہے جو یہاں ہو رہا ہے۔گورنمنٹ آگے ہی آپ لوگوں کے خلاف ہے اب آپ نے یہ حرکت کر دی ہے۔۔۔۔۔پس قانون کی پابندی کرانے والی سمال ٹاؤن کمیٹی اور قانون کو توڑنے والے احراری۔مگر الزام ہمارے ذمہ لگایا جاتا ہے اور ہمارے آدمیوں کو بلا بلا کر ڈرایا اور دھمکایا جاتا ہے۔۔۔۔جب جماعت کے کارکنوں نے ثابت کر دیا کہ اس بارہ میں ان کا کوئی دخل ہی نہیں تو اب حکام نے ایک اور کروٹ بدلی اور یہ کہنا شروع کیا کہ چونکہ کمیٹی میں تمہاری اکثریت ہے اس لئے تم ہی اس امر کے ذمہ دار ہو۔تم ممبران کمیٹی کو مجبور کرو کہ احراریوں سے درخواست منگوا کر اور فوری اجلاس کر کے احرار کو مسجد کی تعمیر کی اجازت دیں۔اب کوئی انصاف پسند حج گورنمنٹ مقرر کر کے دیکھ لے معمولی سے معمولی عقل رکھنے والا شخص بھی یہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہو گا کہ احمدیوں کو نا واجب طور پر ستایا اور دکھ دیا گیا اور ان کے امن میں خلل ڈالا گیا۔آخر یہ بھی کہا گیا کہ ڈپٹی کمشنر صاحب کا ارادہ ہے کہ اگر فورا اس فتنہ کو دور نہ کیا گیا تو دونوں فریق کی دفعہ ۱۰۷ کے ماتحت ضمانتیں لی جائیں گی۔شاید جب سے لوکل سیلف گورنمنٹ کا قانون بنا ہے یہ نہ ہوا ہو گا کہ کمیٹی اپنے اختیارات سے ایک کام کرے اور ۱۰۷ دفعہ با امن شہریوں پر لگانے کی دھمکی دی جائے۔یہ سلوک یہاں احرار سے روا رکھا گیا۔اور ہمارے ساتھ یہ سلوک کیا گیا کہ ایک احمدی نے اپنے مکان اور مسجد کے لئے ایک زمین لی وہاں کے مقامی افسران نے جو تعصب رکھتے ہیں جھٹ رپورٹ کر کے لینڈ ایکوی زیشن ایکٹ کے ماتحت اس زمین کا بڑا ٹکڑا چھین لیا۔بہتیر اشور کیا گیا کہ حکومت کو اور