تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 445
تاریخ احمدیت جلد ۶ ۳۱ میں قادیانی کا ذکر بھی آگیا۔گویا حکومت کے نزدیک قادیانی کے متعلق کچھ لکھنا اس کی اپنی تو ہین ہے آپ نے کہا کہ میں اس ضمانت کے سلسلہ میں بلا کسی تمہید کے مسلمانوں کو کہنا چاہتا ہوں کہ "زمیندار" کی موت مرزائیت کی حیات ہے۔اس لئے مسلمانوں کا پہلا کام یہ ہے کہ 1 "زمیندار" کے زندہ رکھنے کی پوری پوری کوشش کریں۔کل تبلیغ نمبر شائع ہو رہا ہے جس کی قیمت اس لئے ہم رکھی گئی ہے کہ اگر مسلمان اس نمبر کے سولہ ہزار پرچے خرید لیں تو "زمیندار" بلا ایک دن کے توقف کے جاری رہ سکتا ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ مسلمان میری اس آواز پر لبیک کہیں گے۔مولانا کی تقریر کے بعد۔۔۔۔۔مولانا محمد حسن صاحب امرتسری نے فرمایا کہ مولانا حبیب الرحمٰن صاحب لدھیانوی کا یہ فقره که "زمیندار" کی موت مرزائیت کی حیات ہے۔ایک ایسا فقرہ ہے جس کی شرح ایک رسالہ میں ہو سکتی ہے۔زمیندار نے مرزائیت کے خلاف وہاں تک آواز پہنچائی ہے جہاں تک علماء نہیں پہنچا سکتے تھے۔اس لئے میں تمام لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ تہجد کے وقت اٹھ کر "زمیندار" کی دائمی حیات کے لئے دعا کریں۔اور نہ صرف دعا ہی کریں بلکہ عملی طور پر بھی اس کی اعانت کریں۔( نامہ نگاہ) alia ۲۶۴ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی زبان ادھر احرار نے قادیان میں اپنا اڈہ جمایا ادھر مبارک سے حکومت کی چیرہ دستیوں پولیس نے قادیان کی احمدی آبادی کو پہلے سے زیادہ ظلم و ستم کا نشانہ مشق بنانا شروع کر دیا۔کے بعض ضروری واقعات کا ذکر چنانچہ ذیل میں حکومت کی ان چیرہ دستیوں اور سفاکیوں کے بعض اہم واقعات حضرت سید نا خلیفتہ المسیح الثانی کی زبان مبارک سے پیش کئے جاتے ہیں حضور پر نور نے ۲ / نومبر ۱۹۳۴ء کے خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمایا کہ۔پہلا واقعہ میں اس کا ہی لے لیتا ہوں جسے احراری لوگ مسجد کہتے ہیں حالانکہ وہ قبلہ پہلا واقعہ رخ نہیں۔وہ شاید ڈیڑھ مرلہ کے قریب جگہ ہے۔میں نے خود اسے دیکھا ہے قریباً ایک کمرہ کے برابر زمین ہے۔وہ زمین احرار کے نام سے یا احراریوں کی طرف سے کسی آدمی نے خریدی مجھے صحیح واقعہ معلوم نہیں بہر حال اس تحریک کے سلسلے میں یہ زمین خریدی گئی اور اس کے خریدنے کے بعد چندہ جمع کرنے کی نیت سے وہاں مسجد کے نام سے ایک چھوٹی سی عمارت بنانی شروع کر دی گئی۔وہ جگہ سمال ٹاؤن کمیٹی کی حدود میں ہے اور گورنمنٹ کے قانون کے ماتحت سمال ٹاؤن کمیٹی کی اجازت کے بغیر کوئی شخص اس کے حلقہ میں عمارت کھڑی نہیں کر سکتا۔مگر وہ چونکہ تر ہیں اور قانون کی پابندی سے آزاد۔اس لئے انہوں نے اجازت لینے کی ضرورت نہ سمجھی اور دیوار میں کھڑی کرنی شروع کر دیں