تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 443 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 443

تاریخ احمد بیت - جلد ۷ ۴۲۹ تو ہوم گورنمنٹ نے ان کی مدت کو اور بڑھا دیا۔جماعت کی طرف سے مجھے خطوط آئے کہ یہ تو ظلم ہے ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا میں نے ان کو لکھا کہ میں نے تو سر ایمرسن کو مبارکباد دی ہے اس لئے کہ میرے ساتھ گورنمنٹ کا مقابلہ نہیں اس کا مقابلہ تو خدا تعالیٰ سے ہے پس اگر ان کی معیاد میں توسیع ہو گئی ہے تو اس میں بھی خدا کی کوئی حکمت ہوگی اس میں گھبرانے کی کونسی بات ہے خدا کی قدرت گورنمنٹ نے ان کی معیاد میں توسیع کر دی مگر کچھ ہی دیر بعد وہ بیماری کی چھٹی لے کر ولایت چلے گئے۔ڈاکٹروں نے انہیں کہہ دیا کہ آپ قطعی طور پر کام کرنے کے قابل نہیں آپ کام سے فارغ ہو جا ئیں آپ کا اپریشن ہو گا۔چنانچہ وہ مستعفی ہو گئے اور ڈاکٹری رائے کے مطابق چند ہفتے آرام کرتے رہے اس کے بعد جب وہ ڈاکٹروں کے پاس اپریشن کے لئے آئے تو ڈاکٹروں نے کہا کہ آپ تو اچھے بھلے ہیں خبر نہیں ہم نے اس وقت کس طرح یہ کہہ دیا تھا کہ آپ کام کے قابل نہیں ہیں دیکھو کہ بغیر اس کے کہ ہم ایک لفظ بھی کہتے خدا تعالیٰ نے خود ہی ہماری طرف سے جواب دے دیا " -1 ۲۵۹ جماعت احمدیہ نے اصلاح احوال کے لئے جو سر سکندرحیات خان صاحب کا مشورہ طریق اختیار کئے۔ان میں خصوصیت سے یہ امر شامل تھا کہ حکومت کے متعلقہ افسروں کو ہر نوع کی بے انصافیوں سے باخبر رکھا جائے اسی سلسلہ میں ۱۰/ فروری ۱۹۳۴ء کو حضرت مولوی فرزند علی صاحب سر سکندر حیات خاں سے ملے اور بتایا کہ قادیان میں پولیس کا مظاہرہ بے ضرورت کیا جا رہا ہے مگر ان دو سرے مقامات پر جہاں اکے دکے احمدی مظالم کا نشانہ بن رہے ہیں وہاں ان کی حفاظت کا کوئی انتظام نہیں کیا جاتا۔پھر احمدیوں سے کہا جاتا ہے کہ تمہارے ساتھ برابر کا انصاف کیا جاتا ہے۔حالانکہ ہمارے ایک پمفلٹ لکھنے والے دوست کو سزا دلوائی گئی اور احراریوں کو صرف تنبیہ کرنا کافی سمجھا گیا۔سر سکندرحیات خان صاحب نے آغاز کلام میں یہ مشورہ دیا کہ اگر آپ لوگ چھ ماہ تک احرار کے مقابلہ میں بالکل خاموش رہیں تو خود بخود امن وامان ہو جائے گا۔۲۶۰ اخبار ”زمیندار“ اور ”احسان " کی ضمانت طلبی اخبار "زمیندار" اور "احسان" وغیرہ ان دنوں احمدیت کے خلاف جی بھر کر دلازار مضامین اور اشتعال انگیز اداریے لکھ رہے تھے۔مگر حکومت اشک شوئی کے لئے ان اخبارات کو محض دار ننگ کرنے پر ہی اکتفا کرتی تھی۔البتہ اکتوبر ۱۹۳۴ء کے وسط میں اس نے ”زمیندار“ اور ”احسان" سے ضمانت طلب کی جو صرف دکھاوے کی چیز تھی۔وگرنہ حکومت کی پالیسی یہ تھی کہ ان دنوں وہ چند دنوں کے بعد خاموشی سے ضمانت واپس کر دیتی تھی۔پس ایک ہاتھ سے لے کر