تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 424
تاریخ احمدیت۔جلد ۶ ۱۰ دیں یہ ہمیں نہیں چھوڑتے۔ہم کیا کریں جیسے کسی نے کہا تھا میں تو کمیل کو چھوڑتا ہوں پر کمبل مجھے نہیں چھوڑتا۔غرض علماء پر ایک عجیب مصیبت نازل ہے۔ہم ان سے لڑیں یا نہ لڑیں لوگ جب سنتے ہیں کہ فلاں ملک میں احمدیوں کے ذریعہ اتنے مسلمان ہو گئے۔افریقہ میں اتنے اور امریکہ میں اتنے لوگ داخل اسلام ہوئے تو وہ مولویوں سے پوچھتے ہیں کہ تم سوائے کافر بنانے کے اور کیا کام کرتے ہو۔مولوی جب یہ باتیں سنتے ہیں تو بجز اس کے انہیں کچھ نہیں سوجھتا کہ وہ کہتے ہیں ہم لٹھ تیار کرلیں کہیں احمد ی نظر آیا تو اس کا سر پھوڑ دیں گے پھر نہ یہ کم بخت دنیا میں رہیں گے اور نہ لوگ ہمیں ستایا کریں گے۔ہر مولوی چونکہ اپنے ساتھ چیلے بھی رکھتا ہے اور ان چیلوں کا آگے حلقہ احباب ہوتا ہے اس طرح یہ مخالفت پھیل جاتی ہے دوسری طرف آریوں نے بھی محسوس کر لیا ہے کہ ہماری جماعت کی وجہ سے ان کی ترقی رک رہی ہے۔جب ملکانہ میں ارتداد شروع ہوا اور تھوڑے ہی عرصہ میں یعنی قریبادو مہینہ کے اندر اندر انہوں نے ہیں ہزار آدمی مسلمانوں میں سے مرتد کر لئے تو اس وقت لاہور میں ڈھنڈورا پیٹا گیا کہ کیا کوئی مسلمان ملکانوں کی خبر گیری کرنے والا نہیں پھر اشتہار دیئے گئے جن میں لکھا گیا کہ احمدی لوگ کہا کرتے ہیں کہ وہ اسلام کے محافظ ہیں بتائیں کہ کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ وہ بیدار ہوں اور اسلام کی حفاظت کریں اس پر میں نے اپنی جماعت میں اعلان کیا تو خد اتعالیٰ کے فضل سے تین سو آدمیوں نے اپنی جانیں پیش کر دیں اور ایک ایک وقت میں سو سو مبلغ ہمارا ملکانہ میں کام کرتا رہا۔ایک لاکھ کے قریب ہمارا روپیہ خرچ ہوا اور خدا تعالیٰ کے فضل سے نتیجہ یہ نکلا کہ آریوں کو ہر میدان میں شکست دی اور یہ جو ان کا خیال تھا کہ وہ مسلمانوں میں ایک عام روار نداد کی چلا دیں گے غلط ثابت ہوا۔گاندھی جی کو جو اس وقت جیل میں تھے جب یہ حالت معلوم ہوئی تو انہوں نے اس پر اظہار ناراضگی کرنا شروع کیا اور سیاسی لیڈروں نے کہنا شروع کیا کہ آپس میں صلح کر لو اور اپنے اپنے مبلغ واپس منگالو- سوامی شردھانند جی اس وقت زندہ تھے انہوں نے پر زور آواز اٹھائی کہ ہمیں گاندھی جی کی بات مان لینی چاہئے اور آپس میں صلح کر لینی چاہئے۔چنانچہ دہلی میں ایک میٹنگ ہوئی ہمارے بعض دوستوں نے کہا کہ اس میٹنگ میں ہمیں نہیں بلایا گیا۔میں نے کہا آپ لوگ تسلی رکھیں وہ ہمیں بلانے پر مجبور ہوں گے کیونکہ ہمارے بغیر یہ صلح ہوہی نہیں سکتی۔چنانچہ دوسرے ہی دن ڈاکٹر انصاری ، مولانا محمد علی صاحب اور حکیم اجمل خاں صاحب کی طرف سے میرے نام تار آیا جس میں لکھا تھا کہ آپ اپنے نمائندوں کو یہاں بھیجئے۔میں نے اپنے دوستوں سے کہا۔دیکھو وہ ہمارے بلانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔میں تو پہلے ہی جانتا تھا کہ وہ ہمارے بغیر صلح کرہی نہیں سکتے۔خیر جب میں نے اپنی طرف سے نمائندے بھیجے تو میں نے انہیں کہہ دیا کہ وہاں یہی امر