تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 423 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 423

تاریخ احمدیت۔جلد ۴۰۹ اسلامی کا اجلاس ہوا۔پس عالم اسلامی کے اتحاد کا میں بڑے زور سے قائل ہوں مگر اس اتحاد کا میں قائل نہیں جو لڑائیاں اور فتنہ و فساد کے لئے ہو۔ہم اخلاق کو درست کر کے اتحاد رکھنے کے قائل ہیں اس امر کے قائل نہیں کہ انگریزوں یا کسی دوسری قوم سے خواہ مخواہ لڑا جائے۔غرض ان وجوہ سے سیاسی لوگ ہمارے مخالف ہیں اور چونکہ کچھ لوگ حکومت میں بھی کانگری خیال کے داخل ہیں وہ بھی ان وجوہ سے دل میں ہمارے مخالف ہیں اور ایسے لوگ اعلیٰ سے اعلیٰ عہدوں پر ملتے ہیں۔اس قسم کے لوگ سیاسی اختلاف کی وجہ سے چاہتے ہیں کہ گورنمنٹ اور جماعت احمد یہ میں لڑائی ہو جائے ہم نے کسی دوسرے کا مال تو نہیں کھایا بلکہ ہر ایک کو اس کا ، حق دلاتے ہیں۔لیکن بہر حال لوگ ہم سے یہی بد گمانی رکھتے ہیں کہ گویا ہم انگریزوں سے مل کر ان کے حقوق کا نقصان کر رہے ہیں اور اس غصہ میں وہ ہمارے خلاف چالیں چلتے ہیں اور اب انہوں نے یہ تدبیر سوچی ہے کہ گورنمنٹ میں اور ہم میں اختلاف ڈلوا کر دونوں کو الگ الگ نقصان پہنچا ئیں۔گورنمنٹ کی بنیاد چونکہ مذہب پر نہیں اس لئے ممکن ہے وہ ان کے قابو میں آجائے مگر ہم انشاء اللہ ان کے قابو میں نہیں آسکتے۔مذہبی مخالفت: علاوہ سیاسی مخالفت کے موجودہ فتنہ کے تحت میں مذہبی مخالفت بھی کام کر رہی ہے علماء میدان دلائل میں شکست کھا چکے ہیں۔وفات مسیح کے مسئلہ کو پیش کیا جائے تو جھٹ کہہ دیتے ہیں اسلام کا اس سے کیا تعلق کہ مسیح ناصری زندہ ہیں یا مرچکے۔حالانکہ اگر اسلام کا اس سے کوئی تعلق نہیں تو یہ لوگ اسی وجہ سے ہم پر کفر کے فتوے کیوں لگاتے رہے ہیں۔اسی طرح نبوت کا مسئلہ ہے سوائے شور مچانے کے اور کوئی بات نہیں کر سکتے کیونکہ ان کے پہلے بزرگ خود لکھ چکے ہیں کہ امت محمدیہ میں غیر تشریعی نبوت کا سلسلہ جاری ہے اب وہ رد کس طرح کریں۔گالیاں دیں تو اپنے بزرگوں پر بھی پڑتی ہیں۔غرض میدان دلائل میں علماء ہمارے سامنے مات کھا چکے ہیں اور اب تو میں نے کثرت سے تعلیم یافتہ لوگوں کے مونہوں سے سنا ہے کہ ہم یہ تو مانتے ہیں کہ نبوت کا دروازہ کھلا ہے صرف یہ بتائیے کہ حضرت مرزا صاحب کس طرح نبی بن گئے۔۔۔۔علماء کے سامنے جب یہ باتیں پیش کی جاتی ہیں تو وہ ان کا کوئی جواب نہیں دے سکتے۔پھر لوگ انہیں کہتے رہتے ہیں تم کرتے کیا ہو۔احمدیوں میں سے تو کوئی افریقہ جا کر لوگوں کو مسلمان بنا رہا ہے اور کوئی امریکہ کوئی انگلستان جارہا ہے اور کوئی ماریشس اور دمشق و غیرہ مگر تم بجز اس کے کہ گھر بیٹھے روٹیاں توڑتے رہتے ہو اور لوگوں پر کفر کے فتوے لگاتے ہو اور کیا کرتے ہو۔یہ باتیں جب ان کے سامنے پیش کی جاتی ہیں تو وہ ان کا کوئی جواب نہیں دے سکتے۔پس ہمارے وجود سے مولویوں کی زندگی تلخ ہوگئی ہے اور وہ دل میں کہتے ہیں کہ ہم تو احمد یوں کو چھوڑ