تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 422
- جلد ۰۸ اس کو بھی قوموں نے محسوس کیا اور انہوں نے کہا کہ اگر ہم گورنمنٹ کو دھمکی دیتے ہیں تو یہ دھمکی کا اثر بھی قبول ہونے نہیں دیتے آؤ اس جماعت کا ہی متحدہ مقابلہ کریں۔پچھلے دنوں ایک اخبار والے کو دھمکی دی گئی کہ اگر مسلمانوں کے حقوق کی تائید سے وہ نہ رکے تو اس کے دروازوں پر پکٹنگ کیا جائے گا۔ہم نے جب یہ سنا تو اپنے نوجوانوں کی خدمات پیش کر دیں اس پر کسی نے پینٹنگ نہ کیا۔پس لوگوں نے دیکھا کہ جب وہ دھمکیاں دیتے ہیں تو ہم ان کی دھمکیوں کو باطل ثابت کر دیتے ہیں۔سیاسی لحاظ سے دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں۔تو اس کا مقابلہ کرتے ہیں۔مذہب کے نام پر لوگوں کو بہکانا چاہتے ہیں تو اس میں روک بن جاتے ہیں اور ان کا پول کھول دیتے ہیں۔طاقت اور گھمنڈ سے مرعوب کرنا چاہتے ہیں تو یہ اپنی خدمات پیش کر دیتے ہیں اس لئے ہندوؤں، سکھوں اور مسلمانوں میں سے ہر شخص ہماری کوششوں پر برا مناتا اور ہماری مخالفت کرنا اپنے مقاصد کے لئے مفید سمجھتا ہے۔سیاسی مخالفت کے اسباب میں سے ایک ہمارا اس وقت شمشیر کے جہاد کی مخالفت کرنا بھی ہے۔مولوی اس مسئلے کی مدد سے عوام کو خوب بھڑکا سکتے تھے ہم نے اس حربہ کو بھی چھین لیا ہے۔پس ہماری جماعت کی مخالفت نہایت وسیع پیمانہ پر ہے اور سیاستدان یہ سمجھتے ہیں کہ جب تک احمدیوں کو کمزور نہ کرایا جائے یا احمدیوں اور حکومت میں لڑائی نہ کرا دی جائے اس وقت تک ان کا قدم مضبوطی سے جم نہیں سکتا۔یہ صرف خیالی بات نہیں بلکہ خود مجھ سے آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے ایک ذمہ دار آدمی نے کہا کہ پنڈت جواہر لال نہرو جب یورپ کی سیاحت سے واپس تشریف لائے تو سٹیشن پر ہی دوران گفتگو میں انہوں نے مجھ سے کہا کہ مجھے دوران سیاحت میں محسوس کرایا گیا ہے کہ اگر ہم ہندوستان میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے احمد یہ جماعت کو کچل دینا چاہئے۔اس غرض کے لئے انہوں نے کئی کوششیں بھی کیں مگر خدا کے فضل سے کامیاب نہ ہوئے۔اب کانگریس والوں کی ایک طرف تو یہ کوشش ہے کہ ہمیں مسلمانوں سے لڑا کر کمزور کر دیا جائے اور دوسری طرف یہ کوشش ہے کہ ہماری انگریزوں سے لڑائی ہو جائے۔ممکن ہے انگریز افسروں میں سے کوئی غلط فہمی میں مبتلا ہو جائے مگر اطاعت چونکہ اصول مذہبی کی بناء پر ہے اس لئے ہم حکومت کی اطاعت سے کبھی انحراف نہیں کر سکتے گو اگر حکومت نے ہماری ہتک کا ازالہ نہ کیا تو پھر ہمارا تعلق اس سے محض قانونی اطاعت والا رہ جائے گا۔محبت والا تعلق باقی نہ رہے گا۔۔۔سیاسی مخالفت کی وجوہ میں سے ایک وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ہم پین اسلامزم کے مخالف ہیں۔حالانکہ میں جب یورپ گیا تو راستہ میں عربی ممالک میں تمام اہم اسلامیہ کی سکیم میں نے بنائی جسے بعد میں شیخ یعقوب علی صاحب نے دوسرے سفر کے موقعہ پر اور پھیلایا اور پھر ان کے لڑکے شیخ محمود احمد صاحب نے بلاد اسلامیہ کے سفر میں لوگوں میں اس کی اشاعت کی۔جس کے نتیجہ میں معتمر