تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 421 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 421

تاریخ احمدیت جلد ۶ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے الفاظ جماعت احمدیہ کے خلاف ۱۹۳۴ء کی منتظم مخالفت کے مذہبی اور سیاسی اسباب پر تفصیلی میں مخالفت کے نئے دور کا پس منظر روشنی ڈالنے کے بعد ہم بالآخر سید نا حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی کے الفاظ میں مخالفت کے نئے دور کا پس منظر بیان کرتے ہیں۔حضور نے فرمایا۔اس وقت ہمارے خلاف جو فتنہ ہے یہ صرف مذہبی نہیں۔نہ صرف سیاسی اور نہ صرف اقتصادی ہے بلکہ یہ مذہبی بھی ہے اور اقتصادی بھی اور سیاسی فتنہ بھی۔سیاسی مخالفت یہ سیاسی مخالفت ہے اس لئے کہ ہم نے کانگرس کی پچھلے دنوں شدید مخالفت کی۔یہاں تک کہ کانگریس والوں نے خود تسلیم کیا کہ احمدیہ جماعت کی مخالفت موثر ثابت ہوئی ہے ہمارے آدمی چونکہ خدا تعالیٰ کے فضل سے تمام ہندوستان میں پھیلے ہوئے ہیں اور وہ کام کرنا جانتے ہیں پھر ان کے اندر ایک حد تک استقلال بھی پایا جاتا ہے۔اس لئے کانگریس کے لاکھ والنٹیر زجتنا کام کرتے ہیں اتنا کام ہمارا ایک ہزار آدمی کر لیتا ہے۔اسی طرح ہمارا تھوڑا رو پید ان کے بہت سے روپیہ کے مقابلہ میں کام دے جاتا ہے۔یہ کانگریس کی ناکامی اتنی واضح ہے کہ اس کے لیڈر محسوس کرتے ہیں کہ اس کی ناکامی میں بہت حد تک دخل احمد یہ جماعت کا بھی ہے پھر یہ اس لئے بھی سیاسی فتنہ ہے کہ عام طو پر اسلامی مسائل کی وجہ سے مسلمانوں میں جوش پیدا کر کے ان کی سیاست کو تباہ کیا جاتا تھا۔جیسے خلافت کا مسئلہ پیدا کیا گیا۔ہجرت کا سوال اٹھایا گیا یا میکلیگن کالج کا جھگڑا پیدا کیا گیا۔ان پر ایک مذہبی رنگ چڑھایا گیا تھا جسے اتار کر ہم نے رکھ دیا اور بتا دیا کہ یہ مذہبی نہیں بلکہ سیاسی تحریکیں ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہمیں ہر تحریک میں آگے آنا پڑا اور ہر تحریک کے وقت ہم نے اصل حقیقت کو بے نقاب کیا۔غرض مسلمانوں کی ہجرت کا پول ہم نے کھولا۔خلافت کے متعلق غلط جوش کے دنوں میں ہم نے ان کی صحیح راہ نمائی کی میکلیگن کالج کے جھگڑے کے وقت ہم نے صحیح طریق عمل بتایا اور لوگوں پر ظاہر کیا کہ یہ مذہب کے بہانے سے سیاسیات میں طاقت حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سیاسی طرز کے مسلمانوں نے سمجھا کہ جب تک یہ جماعت موجود ہے اس وقت تک ہم سیاسی طور پر مسلمانوں کو بے وقوف نہیں بنا سکتے پس وہ بھی ہمارے مخالف ہو گئے۔تیسری مثال اس کی وہ شور ہے جو پچھلے دنوں کمیونل ایوارڈ یعنی فرقہ وارانہ تصفیہ کے نام سے اٹھا۔سکھوں اور ہندوؤں نے گورنمنٹ کو نوٹس دیا تھا کہ ہم ایک لاکھ والٹیر ز اس کے خلاف جنگ کرنے کے لئے تیار کریں گے۔اس پر ہم نے بھی اپنی جماعت کی تنظیم شروع کر دی اور گورنمنٹ کے سامنے اپنی خدمات رکھ دیں نتیجہ یہ ہوا کہ