تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 414 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 414

تاریخ احمدیت۔جلد ؟ چودھری صاحب کو یہ موقع دلانے میں سر فضل حسین کا ہاتھ تھا لہذاوہ بطور خاص اس پروپیگنڈا کا نشانہ بن گئے "۔میاں فضل حسین صاحب کی یونینسٹ پارٹی کے باغی عصر اور مجلس احرار کی باہمی مفاہمت پر روشنی ڈالتے ہوئے سید نور احمد صاحب نے یہ بھی لکھا ہے۔۱۹۳۴ء میں مرکزی اسمبلی کے نئے انتخاب ہوئے۔اس وقت مجلس احرار لاہور اور وسطی پنجاب کے دو سرے شہروں میں سب سے زیادہ با اثر عوامی جماعت تھی۔سر فضل حسین کے اشارے سے آل انڈیا مسلم کانفرنس کے سیکرٹری حاجی رحیم بخش لاہور اور مضافات کے حلقے میں بطور امیدوار کھڑے ہوئے۔مجلس احرار نے آنجہانی لالہ ہر کشن لال کے بڑے بیٹے کو جو کچھ عرصہ پہلے اسلام قبول کر کے اپنا اسلامی نام خالد لطیف گا بارکھ چکے تھے (بعد میں وہ نقل وطن کر کے بھارتی اور مذہب تبدیل کر کے ہندو بن گئے) اپنا امیدوار چن لیا۔لیکن اس انتخابی معرکے میں مسٹر گابا کی پشت پر صرف مجلس احرار کا اثر و رسوخ نہ تھا۔یونینسٹ پارٹی کے اندر سر فضل حسین کے در پر دہ مخالف عصر کی خفیہ امداد بھی مسٹر گابا کو ملی۔غالبا قیاس یہ تھا کہ گا با اس امداد کے بغیر بھی جیت جاتے۔بہر حال وہ بھاری اکثریت جیت گئے۔یونینسٹ پارٹی کے "باغی" عصر اور مجلس احرار کے لیڈروں کے درمیان پخت و پز آئندہ پروگرام کے متعلق بھی ہوتی رہی۔گو دونوں فریق اس پر پردہ ڈالے رکھنا چاہتے تھے لیکن مجلس احرار نے علانیہ طور پر سر فضل حسین کو اپنا سیاسی مخالف نمبر ایک گردان لیا۔سید نور احمد صاحب کے علاوہ ڈاکٹر عاشق ڈاکٹر عاشق حسین صاحب بٹالوی کا بیان حسین صاحب بٹالوی بھی اپنی کتاب ”اقبال کے آخری دو سال " میں احرار کی مخالفت کے اسباب پر روشنی ڈالتے ہوئے تحریر کرتے ہیں۔" تحریک کشمیر کے بعد احرار بعض فروعی اور بے مصرف باتوں میں الجھ کر اپنی قوت عمل کو ضائع کرنے لگے۔قادیانی فتنے کا ڈھونگ بھی صرف میاں فضل حسین کی مخالفت کے لئے کھڑا کیا گیا تھا۔حالا نکہ قوم کے بعض بے حد اہم سیاسی امور او را قتصادی مسائل ان کی توجہ کے طلبگار تھے۔احرار نے بار بار مسلم کانفرنس پر حملے کئے میاں فضل حسین کو قادیانیت نواز کہہ کہہ کر ہندوستان بھر میں ان کے خلاف پراپیگنڈا کیا گیا۔یہ سب کچھ سراسر محنت اور وقت کا ضیاع تھا۔اگر احرار کے حسب منشاء قادیانیت کا استیصال ہو جاتا۔تو بھی مسلمانوں کے سیاسی مسئلہ کا تشفی بخش حل ممکن نہ تھا۔مصیبت یہ تھی کہ احرار نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تھا کہ میاں فضل حسین ان کے راستے میں حائل ہیں۔اس لئے انہوں نے سب سے پہلے اس سنگ گراں کو راہ سے ہٹا دیتا ضروری سمجھا ہوشمندی کا تقاضا تو یہ تھا کہ