تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 413
تاریخ احمدیت۔جلد ۶ ۳۹۹ سکندر نے سنبھالی اور اپنے اس عہدے کے زمانے میں انہیں ایک مرتبہ دو ماہ اور دوسری مرتبہ چار ماہ کے لئے قائم مقام گورنر بننے کا موقعہ مل گیا یہ اعزاز اس سے پہلے کسی پنجابی کو حاصل نہ ہوا تھا۔ہندو شهری پارٹی کے لیڈر راجہ نریندر ناتھ کے ساتھ سر سکندر کے خاندانی تعلقات تھے اگر پنجاب کا وزیر اعظم کسی مسلمان کو قبول کئے بغیر چارہ نہ ہو تو اس صورت میں ہندوؤں اور سکھوں کے لئے سر فضل حسین کے مقابلے میں سر سکندر بہت زیادہ قابل قبول تھے۔ملک فیروز خاں نون کے ساتھ سر فضل حسین کی قرابت داری ہو گئی تھی اس لئے نون ٹوانہ گروپ کو سر فضل حسین کے مقابلے پر کھڑا کرنا ممکن نہ تھا ان حالات میں بعض ہندو اور سکھ لیڈروں نے سر سکندر اور ان کے دوستوں کو اپنے تعاون کی امید دلانا شروع کیا۔سر سکندر کے دائیں اور بائیں دو شخص جو ان حالات میں خود سر سکندر سے بھی زیادہ انہیں پنجاب کا وزیر اعظم بنانے کے خواہشمند ہو گئے۔ایک ان کے رشتے کے بھائی اور عمر کے لحاظ سے بزرگ نواب مظفر خاں تھے جو سرکاری عہدیدار تھے اور ریفارمز کمشنر کے عہدے سے ریٹائر ہونے والے تھے۔دوسرے سر سکندر حیات کے جگری دوست میاں احمد یار دولتانہ جن کی زندگی سر سکندر کی خدمت کے لئے وقف تھی۔نواب مظفر خاں کو پنجاب میں ایک اور بااثر جماعت ایسی نظر آئی جس کا تعاون سر فضل حسین کی مخالفت کے سوال پر حاصل کیا جا سکتا تھا یہ مجلس احرار تھی جو وسط پنجاب کی مسلم شہری آبادی میں مقبولیت حاصل کر رہی تھی اور بوجوہ سر فضل حسین کی مخالف ہو گئی تھی چنانچہ دولتانہ صاحب اور نواب مظفر خاں نے ایک طرف ہندو اور سکھ لیڈروں سے اور دوسری طرف مجلس احرار کے چودھری افضل کے ساتھ ساز باز شروع کر دی خود سر سکندر کا اپنا رویہ محتاط تھاوہ اس سازباز سے الگ رہے اور ایک خوش خلق انسان کی طرح ہر ایک کے ساتھ میٹھی میٹھی باتیں کرتے رہے لیکن ان کے دونوں ساتھیوں نے انہیں ایک شرمیلے دولہا کی حیثیت دے رکھی تھی اور یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ دولہا کو عروس وزارت کے ساتھ اپنے رشتے کے لئے سرگرمی دکھانے کی ضرورت نہیں دولہا کے رشتے کی بات چیت اس کے عزیز و اقارب ہی کیا کرتے تھے “۔پھر لکھتے ہیں۔مجلس احرار کی سیاسی پالیسی چودھری افضل حق کے دماغ کی مرہون منت تھی عوامی جلسوں سے خطاب کرنے کے لئے اس کے پاس ایک سحر انگیز خطیب مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری کی صورت میں موجود تھا۔۱۹۳۲ء میں چودھری ظفر اللہ خان کو عارضی طور پر وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل میں لیا گیا۔تو یہ بات مجلس احرار کے لئے پراپیگنڈا کا بہت اچھا موضوع بن گئی۔یہ بات عام طور پر معلوم تھی کہ