تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 409 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 409

تاریخ احمدیت جلد ۷ ۳۹۵ اجازت نہیں ملتی۔دفتر کے افسر نے جو کیپٹن تھے اگر چہ یہ وعدہ کیا کہ ہم دوبارہ اس سلسلہ میں توجہ دلا دیں گے۔لیکن ساتھ ہی کہا کہ بعض اوقات الفضل میں ہندوؤں کے خلاف حملے ہوتے ہیں جن کی وجہ سے ہندو مسلم تعلقات کی فضا بگڑ جاتی ہے۔خان صاحب نے کہا کہ وہ مضمون جس پر حکومت پنجاب ناراض ہوئی تھی وہ تو آریہ سماج سے متعلق تھا اور آپ کی فوجوں میں آریہ سماجی سپاہی نہیں ہوتے اس لئے "الفضل" کی مخالفت در حقیقت غیر ضروری سرکاری زبر دستی تھی۔یہ افسر پوچھنے لگے کہ کشمیر کمیٹی کا کیا حشر ہوا اور شیخ محمد عبد اللہ کا کیا حال ہے؟ نیز کہا وہ تو احمدی ہے۔خان صاحب نے کہا یہ اطلاع آپ کی غلط ہے۔اس کے بعد آپ رخصت ہو کر چلے آئے۔- اس ملاقات کے بعد حضرت مولوی فرزند علی صاحب نے دوبارہ ۱۱/ اکتوبر ۱۹۳۳ء کو میاں سر فضل حسین صاحب سے شملہ میں ملاقات کی۔جس کی تفصیل خان صاحب ہی کے الفاظ میں درج کی جاتی ہے۔” خاکسار نے میاں فضل حسین صاحب کو کہلا بھیجا تھا کہ میں محض ان کی ملاقات کی خاطر آرہا ہوں۔جس پر انہوں نے آج صبح ملاقات کا وقت دیا۔چنانچہ آج ملاقات ہوئی۔میرے سوال کرنے پر انہوں نے وکیلانہ پہلو اختیار کر لیا کہ یہ امر واقعہ ہے کہ حضور کے متعلق یہ خیال سرکاری حلقوں میں پایا جاتا ہے کہ حضور اور حضور کی جماعت سیاسیات میں زیادہ دخل دیتی ہے۔اس کی تنقیح قائم کرنا اور اس پر جرح کرنا فائدہ مند نہیں ہو سکتا بلکہ اس کا تدارک سوچنا چاہئے۔مگر میرے اس بات کے زور دینے پر کہ حضور اسی لئے دریافت فرمانا چاہتے ہیں کہ آخر اس خیال کے پیدا ہونے کی وجہ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ میرے پاس خود مسٹر گلائسی اور گورنر پنجاب دونوں نے شکایت کی ہے پہلے مجھے ہی پوچھنے لگے کہ آپ بتائیں یہ امر واقعہ ہے یا نہیں کہ گزشتہ سال ان دنوں میں احمدی جماعت کے خلاف اس قدر جوش نہ تھا۔جیسا کہ اب ہے پھر اس کی کیا وجہ ہے میں نے کہا ہماری مخالفت کی آگ اگر اب زیادہ چپکی ہوئی ہے تو اس کی یہ وجہ نہیں کہ جماعت سیاسیات میں زیادہ دخل دیتی ہے۔بلکہ۔۔۔۔۔پریس تو ہماری تبلیغی کوششوں پر بھی بھڑکتا ہے۔ہاں ایک وجہ یہ بھی ہوئی ہے کہ حضور کو جو کامیابی کشمیر کے کام میں ہوئی تو اس پر بعض لوگوں کے دلوں میں حسد کی آگ بھڑک اٹھی ہے اور انہوں نے ایک طرف کشمیر کمیٹی میں فتنہ کھڑا کر دیا۔دوسری طرف پریس میں وہی مخالفت کرنا شروع کر دی اس کے بعد میاں صاحب نے بتایا کہ سر ہیری ہیگ نے آپ کی ملاقات کا میرے ساتھ ذکر کیا تھا اور وہ حیران تھا کہ اس کے متعلق کس طرح یہ خیال پیدا ہو سکتا تھا کہ وہ جماعت احمدیہ سے ناراض ہو سکتا ہے تو میں نے کہا تھا کہ آپ کس طرح ناراض ہو سکتے ہیں آپ کا تعلق CIVIL DISOREDIENCE(عوامی حکم عدولی) سے ہے اور احمد یہ جماعت خود اس طریقہ کی سخت مخالف ہے در حقیقت احمدی جماعت سے