تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 410 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 410

تاریخ احمدیت۔جلد ۶ ۳۹۶ ناراض وہ لوگ ہیں جن کا ریاستوں کے ساتھ تعلق ہے اور جن کو احمدی جماعت کی بعض باتوں سے تکلیف پہنچی ہے اس کے بعد بتایا کہ گلانسی اور گور نر دونوں نے میرے پاس احمدی جماعت کے خلاف شکایت کی ہے پھر لمبا بیان دیا کہ میں پورے وثوق کے ساتھ تو نہیں کہہ سکتا کس کس بات پر ہے مگر گلانسی نے مجھ سے کہا کہ یہ لوگ ہر چیز اور ہر بات میں دخل دیتے ہیں اور بہت ناراضگی کا اظہار کیا۔۔۔پھر خود انہی وجوہات کو بیان کرنا شروع کر دیا۔جو ہمارے خلاف عام مخالفت کے بھڑکانے کا موجب ہوتی ہیں کہنے لگے جب کشمیر کمیٹی بنی ہے اور حضور کو اس کا صدر بنایا گیا اور اتفاق رائے سے بنایا تو میرے نزدیک اس وقت بھی یہ پسندیدہ نہ تھا حضور کو لوگوں نے اس لئے صدربنایا تھا کہ وہ سمجھتے تھے یہ کام بڑا مشکل ہے بہت روپیہ خرچ کو چاہئے تھا اور کامیابی کا حاصل ہونا موہوم نظر آتا تھا۔اس لئے لوگوں نے چاہا حضور کو صدر بنادیں تا اگر کوئی کام نہ بنا تو اس کی ذمہ داری حضور کے سر ہوگی مگر جب دیکھا کام چل نکلا ہے اور اس کی وجہ سے بھی حضور کے اقتدار میں اضافہ ہو رہا ہے تو بعض لوگوں کے دلوں میں حسد پیدا ہوا۔اس اثناء میں ظفر اللہ خاں صاحب راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کے ضمن میں ولایت بھیجے گئے۔وہاں نام پیدا کیا تو اس حسد میں اضافہ ہوا۔اس کے بعد جب وہ میری جگہ قائم مقام بنائے گئے تو لوگوں نے نہ صرف چوہدری صاحب کی مخالفت پیٹ بھر کر کی بلکہ میری مخالفت میں بھی حتی الامکان زور لگایا گیا میں تو چونکہ ابھی تک بر سر سر کار ہوں اس لئے میرا تو کچھ بگاڑ نہیں سکتے آپ لوگوں کے خلاف حکام کے کان بھرے جاتے ہیں۔یہی ایمرسن ہے جو بہ حیثیت ہوم سیکرٹری آپ لوگوں کا بے حد مدارج تھا۔۔۔۔چونکہ اس کو نسبتاً چھوٹے درجہ سے ترقی ہوئی ہے اور وہ پنجاب میں ہی چھوٹے عہدوں پر رہ چکا ہے اس لئے اس کو ہر قسم اور ہر طبقہ کے لوگ ملتے ہیں۔اور احمدی جماعت کے خلاف باتیں کہہ کر اس کے کان بھرتے ہیں میں نے حال ہی میں اس کے پاس ایک سفارش کرنا تھی۔تو اس موقعہ پر اس نے احمدی جماعت کے خلاف مجھے باتیں سنائیں کہ آپ کو معلوم نہیں لوگ کس طرح احمدی جماعت کے لوگوں کو برا سمجھتے ہیں میں نے اسے بتایا کہ در حقیقت لوگ ذاتی اغراض کے ماتحت ایسا پراپیگنڈا کیا کرتے ہیں۔میں اس قسم کی باتوں سے متاثر نہیں ہوا کرتا آپ کو بھی اس طرح کے پروپیگنڈا کے متعلق ہوشیار رہنا چاہئے اور جو باتیں آپ کے گوش گزار کی جائیں ان کی صداقت کو بلا چون و چرا تسلیم نہیں کر لینا چاہئے"۔حضرت مولوی صاحب اس کے بعد لکھتے ہیں۔”میں نے کہا (یعنی میاں فضل حسین صاحب سے۔ناقل) اس کے تدارک کے متعلق ہمیں کیا مشورہ دیتے ہیں؟ کہنے لگے کہ میں نے چوہدری ظفر اللہ خاں کو بھی چٹھی لکھی ہوئی ہے وہ انشاء اللہ ۱۰ / دسمبر تک واپس آجا ئیں گے تو وہ خود بھی اس معاملہ سے