تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 408 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 408

تاریخ احمدیت۔جلد ۶ ۳۹۴ بات کا تذکرہ کیا کہ حضور کا سیاسیات میں دخل دینا معیوب سمجھا جاتا ہے " - 1 حضرت خان صاحب موصوف نے ۲۲/ ستمبر ۱۹۳۳ء کو پنجاب کے چیف سیکرٹری مسٹر گار بٹ سے ملاقات کی اور ان تک مسلمانان حصار کی حالت زار پہنچائی اور ہندو ڈپٹی کمشنر کی چیرہ دستیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کو تبدیل کئے جانے کی درخواست کی۔اس پر مسٹر گار بٹ نے کہا کہ ہم اس قسم کی تحریک کو اپنے انتظامی امور میں مداخلت سمجھتے ہیں۔Bal ۲۴ ستمبر ۱۹۳۳ء کو آپ شملہ میں میاں فضل حسین صاحب ممبر وائسرائے کو نسل سے ملے تو میاں صاحب نے ملاقات کے دوران کہا کہ نہ صرف غیر سرکاری بلکہ سرکاری حلقوں اور نہ صرف ہندوستانیوں میں بلکہ انگریز حکام میں بھی اس بات کا چر چاہے کہ حضور کی طرف سے سیاسیات میں زیادہ دخل دیا جاتا ہے۔۲ اکتوبر ۱۹۳۳ء کو آپ سر ہیری بیگ (ہوم ممبر وائسرائے کونسل) سے ملے تو انہوں نے دوران ملاقات کہا۔آپ لوگ ہمیشہ گورنمنٹ کے خیر خواہ رہے ہیں۔البتہ اتنا کہوں گا کہ ڈیڑھ سال کا عرصہ ہوا ہے میں نے سنا تھا کہ حضرت صاحب اور ان کی جماعت شمالی ہند کی سیاسیات میں اس رنگ میں زبر دست فرقہ وارانہ خطوط پر دخل دیتے ہیں کہ گورنمنٹ کو پریشانی ہوتی تھی۔خان صاحب نے پوچھا شمالی ہند سے کیا مراد ہے ؟ تو انہوں نے جو ابا کشمیر کا نام لیا۔اس پر حضرت خان صاحب نے با تفصیل بتایا کہ مسلمانان کشمیر کی امداد کے لئے جو مشورہ ہوا۔تو ایک آل انڈیا کشمیر کمیٹی بنائی گئی اور تمام حاضرین نے حضور کو عمدہ صدارت قبول کرنے کے لئے مجبور کیا۔وگر نہ حضور کا اصل کام خالص مذہبی ہے۔بہر حال حضور یہ ذمہ داری قبول کرنے کے بعد اپنے ملی فرائض سے غافل یاست نہیں ہو سکتے تھے مگر جو کارروائی بھی حضور کی ہدایت کے ماتحت کی گئی وہ تمام تر آئینی تھی۔خان صاحب نے نیہ بھی کہا کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ کسی جگہ ہمارے ہم مذہب لوگوں پر ظلم اور زیادتی ہو رہی ہو۔ہمیں ان کی تکلیف کا کوئی احساس نہ ہو اور جبکہ ہم دونوں سیاسی امور میں فائدہ اور نقصان ہر اعتبار سے دوسرے مسلمانوں کے ساتھ شریک اور حصہ دار ہیں تو ہمارے لئے ضروری ہو گا کہ ہماری طرف سے بھی آئینی جدوجہد مسلمانوں کے مفاد کے لئے ہو مگر اس کو فرقہ وارانہ (COMMUNAL) نہیں کہا جائے گا یہ تو خود حفاظتی کی صورت ہوگی۔ای روز آپ چیف آف دی جنرل سٹاف کے دفتر میں تشریف لے گئے جس کی وجہ یہ تھی کہ حکومت نے فوجیوں کے لئے " الفضل " منگوانے کی ممانعت کر رکھی تھی اور گو اس دفتر سے یہ پابندی اٹھائی جا چکی تھی مگر مختلف مقامات سے برابر شکایات آرہی تھیں کہ ہمیں "الفضل " منگوانے کی