تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 375 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 375

تاریخ احمدیت جلد ۶ " تاریخ احرار " میں لکھا ہے کہ کانگریس کی کسی سول نافرمانی میں ۸۰ ہزار سے زیادہ ہندو مسلمان اور دوسری اقوام مل کر ایک سال تک قید نہیں ہوئے پنجاب میں تین ماہ کے اندر احرار نے ۵۰ ہزار نفوس کو جیل بھیجوا دیا"۔(صفحہ (۶۳) ان ۵۰ ہزار نفوس " اور ان کے خاندانوں پر کیا بیتی یہ الگ مستقل مضمون ہے۔اس بیرونی مداخلت اور ہنگامہ آرائی کے علاوہ احرار نے جموں کے بعض نوجوان لیڈروں سے گٹھ جوڑ کر کے میرپور کے علاقہ میں عدم مالیہ کی تحریک اٹھادی۔چراغ حسن حسرت لکھتے ہیں۔احرار کی تحریک کا زور بندھا۔تحقیقاتی کمیشن کا اعلان ہو چکا تھا اور کشمیری بہت حد تک مطمئن نظر آتے تھے۔احرار کی تحریک کا غلغلہ بلند ہوا تو یہ لوگ ڈرے کہ یہ جوشیلے لوگ کہیں سارا کام نہ بگاڑ دیں"۔مظلوم کشمیریوں کا یہ خدشہ حرف بحرف صحیح نکلا اور حکومت کشمیر نے اس سول نافرمانی کی آڑ لے کر اہل کشمیر پر بے پناہ مظالم ڈھانے شروع کر دیئے اور شیخ عبد اللہ اور دوسرے کشمیری لیڈر ۲۷/ جنوری ۱۹۳۲ء کو جیلوں میں ڈال دیئے گئے اور میر پور کے ستم رسیدہ مسلمان اپنے وطن عزیز کو چھوڑ کر علاقہ انگریزی میں پناہ گزین ہو گئے۔چوہدری افضل حق صاحب مفکر احرار کا اعتراف چنانچہ چوہدری افضل حق صاحب لکھتے ہیں۔” علاقہ میرپور میں زیادہ تر اسلامی آبادی تھی۔وہاں جو ہلچل ہوئی تو ان پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا۔مصیبتوں سے کہیں پناہ نہ پا کر ریاستی مسلمان دھڑا دھڑ انگریزی علاقے میں چلے آئے۔اف ابے سرو سامانی اور غریب الوطنی !۔۔۔جہلم کے کنارے یہ قافلے اترے۔شہر ہے ہی کتنا۔جو مہاجرین کی بڑی تعداد کے لئے پناہ گاہ ہو تا؟ باشندوں نے پڑی جان لڑائی مگر یہ بوجھ ان کی برداشت سے زیادہ تھا۔۔۔۔ایسے بوجھ کو تو سلطنت بھی برداشت نہیں کر سکتی " 11 HA- اپنا دامن بچالینے کی کامیاب کوشش میرپور میں بغاوت کے شعلے بھڑکا کر احرار کس طرح اپنا دامن صاف بچا کر نکل آئے اس کی تفصیل چوہدری افضل حق صاحب کے الفاظ میں ملاحظہ ہو۔”اس میں شبہ نہیں کہ ہمارے جتھے اس علاقہ میں ضرور جاتے تھے مگر سول نافرمانی کے لئے نہ کہ تشدد کو ہوا دینے کے لئے۔۔۔۔۔۔ورکنگ کمیٹی میں سے صرف میں ہی ایک شخص جیل سے باہر تھا حکام کو بتایا گیا کہ میں ہی بیٹھا تا ر ہلا رہا ہوں۔تجویز یہ ہوئی کہ مجھے اور آخری جتھے کے آدمیوں کو بغاوت کی آگ بھڑ کانے کے جرم میں گرفتار کر لیا جائے۔سر جافرے گورنر پنجاب ایک شریف انگریز تھا۔اس نے کہا کہ گرفتاریوں سے قبل واقعے کی تحقیق کی