تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 374 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 374

تاریخ احمدیت جلد ۶ تھی کہ مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کو بھی لکھنا پڑا۔" اس اختلاف کا ظاہری سبب قادیانیت ہے سارے ملک کے نمائندے سات ارکان بنائے گئے جن میں ایک رکن قادیانی بھی ہے جمہور امت قادیانی کا دخل نہیں چاہتی۔شیخ عبد اللہ لیڈر اس کے خلاف ہیں وہ کہتے ہیں یہ وقت ان باتوں کا نہیں۔۔۔ہم اس بارے میں تینوں گروہوں کو۔۔۔۔تو یہ سمجھاتے ہیں کہ یہ وقت تمہارے اختلاف کا نہیں قادیانی کو پہلے داخل نہ کرتے تو خوب ہو تا۔لیکن جب داخل ہو گیا تو اب اس کے اخراج پر جھگڑا پیدا نہ کریں۔پس اہل کشمیر اعداء کے داؤ پیچ سے بچ کر باہمی اتفاق سے رہیں ایسا نہ ہو کہ یہ مثل صادق آجائے۔دو مرغ جنگ کنند فائده تیر دیگر " مگر افسوس " اعداء کے داؤ پیچ" نے مجلس احرار کو کشمیری لیڈروں خصوصاً شیخ عبد اللہ صاحب کے خلاف سالہا سال تک بر سر پیکار رکھا۔جناب چراغ حسن صاحب حسرت اور احرار کشمیری لیڈروں سے عدم مفاہمت کے اسباب پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں۔"کشمیر کے لیڈر خصوصا شیخ عبد اللہ اور ان کے ساتھیوں کو کشمیر کمیٹی کی امداد قبول کرنے میں تو دریغ نہیں تھا لیکن احرار سے تعاون کرنے میں انہیں سخت تامل تھا۔اس کی کئی وجہیں تھیں ایک تو احرار کے دامن پر کانگریس کے تولد کا جو داغ تھا وہ ابھی پوری طرح نہیں دھلا تھا۔۔۔۔۔ادھر احرار۔۔۔۔۔کشمیر کے نوجوان لیڈروں کو خاطر ہی میں نہیں لاتے تھے۔اور اس بات پر مصر تھے کہ کشمیر کے بارے میں جو فیصلہ کیا جائے ہمارے مشورہ سے کیا جائے۔ادھر کشمیری نوجوانوں کا انداز کچھ اس قسم کا تھا۔کہ اگر آپ کشمیر کمیٹی کی طرح ہماری مدد کر سکتے ہیں تو شوق سے کیجئے۔ورنہ ہمارے معاملات میں دخل نہ دیجئے۔۱۱۴ تحریک آزادی کو تباہ کرنے کے لئے مجلس احرار ہند نے کشمیری لیڈروں کو بدنام دوسرا قدم اور اس کے خوفناک نتائج کرنے کے ساتھ ساتھ سب سے خطرناک رستہ یہ اختیار کیا کہ عین اس وقت جبکہ یہ آئینی تحریک ( آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی بدولت) کامیابی کی منازل طے کر کے ایک اہم مرحلہ میں داخل ہو رہی تھی درمیان میں آگئے اور ریاست میں جھجھے بھیجنے کا اعلان کر دیا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی جدوجہد کے باعث چونکہ پورے ملک میں زبردست جوش و خروش پیدا ہو چکا تھا اس لئے لوگ دیوانہ وار آگے بڑھے احرار نے رضا کاروں کے بکثرت جتھے بھیجنے شروع کر دیئے یہ جتھے سیالکوٹ (مدینہ احرار) اور سوچیت گڑھ کے راستے جموں کے علاقے میں داخل ہوتے تھے جہاں وہ گرفتار کر لئے جاتے تھے بعض جتھے راولپنڈی سے کو ہالہ پہنچے اور وہاں گرفتار کر لئے گئے۔