تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 376 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 376

۳۶۲ tt جلد ۲ جائے۔کہ یہ کام احرار کا ہے بھی یا نہیں۔خدا کی نظر عنایت ہو تو دشمن دوست ہو جاتے ہیں۔مخالف۔موافق ہو کر دوش بدوش لڑنے لگتے ہیں۔یہ صحیح خبر مجھے ایسے ذمہ دار شخص نے دی جس سے یہ توقع نہ تھی۔اس نے مجھے رات کے ڈیڑھ بجے جگایا۔اطلاع کے ساتھ یہ مشورہ بھی دیا کہ اردو روزنامہ احرار کے ساتھ انگریزی صفحہ زیادہ کر لیا جائے۔تاکہ انگریزی افسران کو پارٹی کے پر امن مقاصد کا علم ہو۔ورنہ یہ تحقیقات آپ کی ذات تک محدود نہ رہے گی۔چنانچہ مجھے دوسرے ہی دن صرف کثیر سے روزنامہ "احرار " کے ساتھ انگریزی ضمیمے کا اضافہ کرنا پڑا۔حالات سے بے خبر دوستوں نے کہا کہ یہ امیری کرلی؟ حالا نکہ یہ غریبوں کا بچاؤ تھا۔۔۔۔۔انگریزی پولیس نے تحقیقات شروع کی۔سپرنٹنڈنٹ سی۔آئی۔ڈی خان بہادر مرز ا معراج دین نے میرے بیانات لئے۔میں نے تشدد کے الزام سے اپنا اور پارٹی کا دامن پاک بتایا"۔ادھر اہل کشمیر مبتلائے آلام ہو کے نظر بند اور بے خانماں ہوئے ادھر احراری " مجاہدوں " کاسب جوش و خروش ختم ہو گیا چنانچہ چوہدری افضل حق صاحب لکھتے ہیں :- | 144۔مسلمانوں میں ان دنوں تحریک خلافت سے زیادہ سرگرمی تھی پنجاب کے مسلمانوں کو ایک نشہ سا چڑھا تھا سول نافرمانی کو چوتھا مہینہ تھا مگر یہ سیاسی طوفان برابر بڑھ رہا تھا۔اتنے میں رمضان کا مہینہ آگیا۔میں متوقع تھا کہ مسلمانوں میں جہاد کا جوش اور شہادت کا شوق بہت بڑھ جائے گا۔ایسانہ ہو کہ یہ جوش اور یہ شوق مسلمانوں کو بالکل سر مست کر دے اور تحریک میں نظم قائم نہ رہ سکے"۔” میں نے دیکھا کہ پوری قوم پر اوس پڑ گئی ہے۔ہر شخص جیل جانے کی بجائے روزہ رکھ کر گھر میں معتکف ہو بیٹھا پوری نو کروڑ کی آبادی میں سے ایک بھی تو نظر نہ آیا۔جس نے خوش دلی سے یہ کہا ہو کہ رمضان میں ہم امتحان کے لئے تیار ہیں"۔تحریک کشمیر میں اس عبرتناک ناکامی پر مزید تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔”یہ میرے گمان میں بھی نہ تھا کہ مجاہد روزوں کے بہانے کھسک جائیں گے۔ہمارے دلوں میں مذہب نے کیسی بری صورت اختیار کر لی ہے جہاد قولی عبادتوں اور رسمی روزوں پر قربان کیا جانے لگا ہے۔غرض جو نہ ہونا چاہئے تھا وہ ہو ا رمضان میں عام مسلمانوں کی خاموشی میدان سے باقاعدہ پسپائی نہ تھی۔بلکہ ہتھیار اٹھانے سے کانوں پر ہاتھ دھرنا تھا۔ان حالات میں دفتر نے اعلان کر دیا کہ عید کے بعد سول نافرمانی کا پروگرام زور شور سے جاری کیا جائے گا۔حالانکہ اب کسی ” زور شور " کی امید باقی نہ تھی اب ہمارے پاس بہت تھوڑے والٹیر رہ گئے تھے وہ بھی کئے پتنگ کی طرح اداس اور اکیلے اکیلے سڑک کے حاشیوں پر پھرتے تھے۔بھا گڑ مچی فوج کا دوبارہ مربوط ہو کر لڑنا خوش قسمتی کا کھیل ہوتا ہے ورنہ قانون قدرت یہی ہے کہ