تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 364
۳۵۰ تحریریں نظر انداز کی جاسکیں"۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آریہ سماج اور ہندوؤں کی دوسری ضرر رساں تحریک کے مقابلہ کے لئے اپنی جماعت میں جو زبر دست روح پیدا کر دی تھی اس کا نمایاں اظہار خلافت ثانیہ میں ہوا جبکہ اس نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی قیادت میں نہ صرف آریہ سماج سے ملکانہ کے میدان کارزار شدھی میں ٹکرلی اور اس کے خوفناک منصوبوں کو پاش پاش کر دیا بلکہ آل انڈیا نیشنل کانگرس کی ہر اس تحریک کے سامنے جو مسلمانان ہند کے مفاد ملی و قومی کے منافی تھی پوری قوت و طاقت سے سینہ سپر ہو گئی۔اور اپنے خلوص و علم اور قربانی کے ساتھ دوسرے مسلمانوں کو بھی اس کے لئے منظم کیا اور قدم قدم پر ان کی صحیح اور بر وقت راہ نمائی کی۔چنانچہ اس سلسلہ میں تحریک خلافت تحریک عدم موالات، تحریک ہجرت مقدمہ در تمان اور ”رنگیلا رسول“۔مخلوط انتخاب نہرو رپورٹ وغیرہ کے سلسلہ میں جماعت احمدیہ کی شاندار خدمات پر مفصل روشنی ڈالی جاچکی ہے۔کانگریس اور ہندوؤں کا سب سے کارگر ہتھیار سول نافرمانی کنگ اور بائیکاٹ تھا۔جس کا مقصد غیر ملکی طاقت کو بزور نکال کر ملک پر خود قبضہ کرنا تھا۔جماعت احمدیہ نے سالہا سال تک مسلمانوں کو اس حربہ کے خوفناک نتائج سے آگاہ کیا اور اس کے خلاف ایسی کامیاب مہم چلائی کہ مسلمانوں نے من حیث القوم شورش اور بغاوت کی ان سرگرمیوں میں حصہ لینے سے عملاً انکار کر دیا۔اس حقیقت کے ثبوت میں ہندوستان کے مسلم رہنماؤں کا وہ مشہور اعلان درج کیا جاتا ہے جو انہوں نے ۵/ جون ۱۹۳۲ء کو حکومت سے مطالبات کے سلسلہ میں جاری کیا تھا۔مسلمانوں نے ۱۹۳۰ء کی کانگرس کی مہم میں بہت کم حصہ لیا۔سوائے صوبہ سرحد کے جہاں کے سرخ پوشوں نے دھوکے میں آکر کانگرس کے جھنڈے کو قبول کیا اور وہ تحریک جاری کی جس کا کانگریس سے تعلق نہ تھا۔مگر جس میں اب انصاف کو کانگریس کی سازش پر فتح نصیب ہو چکی ہے۔کانگریس کی موجودہ مہم میں مسلمان ایک سے زیادہ مواقع پر بغاوت پسندوں کے خلاف عداوت کا اظہار کر چکے ہیں اور پہلے سے بہت کم مسلمان ظاہرہ طور پر کانگریس کا ساتھ دے رہے ہیں۔۔۔۔گورنروں کے صوبوں میں گزشتہ دو سال میں یا اس سے کچھ زیادہ عرصہ میں جو سیاسی قتل ہوئے ہیں ان میں کوئی بھی کسی مسلمان نے نہیں کیا ۱۹۰۷ ء سے لے کر ۱۹۱۷ء کی سیاسی تحریک اور جرائم کے مطالعے سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں بھی جبکہ مسلمانوں کے جذبات ایک سے زیادہ مرتبہ انگریزوں کے خلاف بھڑکائے گئے تھے مسلمانوں اور ہندوؤں کا تناسب ایک تمھیں کا تھا۔ہمیں یہ بھی یاد نہیں پڑتا کہ کسی مسلمان اخبار نے بھی گزشتہ دو برس میں کسی سیاسی قاتل کے ساتھ ہمدردی کا