تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 365
ربیت - جلد ۶ ۳۵۱ ایک لفظ بھی کہا ہو حالانکہ ہندو کانگریسی اخباروں نے کئی مہینوں تک ایسے سیاسی مجرموں کی قصیدہ خوانی کی" مسلمانوں کی یہ سیاسی بیداری کہ ہمیں ہندوؤں کا آلہ کار بن کر سول نافرمانی اور بائیکاٹ نہیں کرنا چاہیے۔اکثر و بیشتر جماعت احمدیہ ہی کی مرہون منت تھی۔جیسا کہ ایک غیر مسلم صحافی سردار ارجن سنگھ ایڈیٹر رنگین امر تسر نے انہیں دنوں بالوضاحت لکھا تھا۔" خلیفہ قادیان کانگریس کے ہمیشہ مخالف رہے ہیں۔اگر چہ کسی زمانہ میں قریباً تمام کے تمام مسلمان کانگریس کے ساتھ ملنا باعث عزت سمجھتے تھے۔لیکن اس وقت بھی خلیفہ قادیان کا کوئی مرید کانگریس کے ساتھ شامل نہ ہوا۔جن دنوں سول نافرمانی کا بڑا زور تھا اور مسلمانوں کی اکثریت سول نافرمانی کی حامی تھی لیکن خلیفہ قادیان کو سول نافرمانی سے کسی قسم کا تعلق نہ تھا بلکہ آپ سول نافرمانی کو ملک کے لئے مضر خیال کرتے تھے۔نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کے پیروؤں میں سے کسی ایک نے بھی کبھی اور کسی حالت میں سول نافرمانی کی حمایت نہ کی۔الغرض احمدی جہاں مذہبی احکام میں اپنے لیڈر کی پیروی کو ضروری خیال کرتے ہیں وہاں سیاسی لحاظ سے بھی اپنے خلیفہ کی تابعداری کو ضروری سمجھتے ہیں۔اور لطف تو یہ ہے کہ بحالات موجودہ خود مسلمانوں کی بڑی بھاری اکثریت بلکہ ایک معنی میں ساری کی ساری قوم کانگریس سے قطع تعلق کر چکی ہے گویا مسلمان بحیثیت قوم انہی سیاسی عقائد کی جانب مائل ہو رہے ہیں جو پہلے پہل خلیفہ قادیان نے پیش کئے تھے"۔نیز لکھا۔جن دنوں ملک میں سول نافرمانی بہت زوروں پر تھی اور مسلمان بھی اس کے حامی تھے۔۔۔سول نافرمانی کے حامی مسلمانوں نے سول نافرمانی کے مخالف مسلمانوں پر زندگی تنگ کر رکھی تھی یہاں تک کہ مخالفین سول نافرمانی کے جنازوں تک کو بھی قبروں میں دفن کرنے سے روکا گیا۔ان حالات کو دیکھ کر سول نافرمانی کے مخالف مسلمانوں کو کسی ایسی منظم جماعت کی تلاش ہوئی جو سول نافرمانی کی مخالف ہو جماعت احمد یہ ایک منظم جماعت ہے اور یہ جماعت اپنے خلیفہ کے حکم کے ماتحت سول نافرمانی کی مخالف تھی چنانچہ بعض بڑے بڑے مسلمانوں نے احمدیوں کے ساتھ سیاسی اتحاد ضروری خیال کیا۔۔۔۔۔تھوڑے ہی عرصہ بعد کانگریسی مسلمان بھی کانگرس سے علیحدہ ہونے شروع ہوئے اور اب مسلمانوں کے دلوں میں یہ خیال جاگزین ہونے لگا کہ سیاسی لحاظ سے احمدیوں کا عقیدہ دوسری مسلمان جماعتوں کی نسبت زیادہ صحیح تھا۔چنانچہ پڑھے لکھے مسلمانوں کی اکثریت اس بات کے حق میں ہو گئی کہ جماعت احمدیہ سے سیاسی اتحاد ر کھا جائے "۔