تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 363 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 363

تاریخ احمد بیت - جلد 4 ۳۹ آتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضور کی جماعت نے ہمیشہ ہی ہندوؤں کی ہر خلاف اسلام تحریک کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔چنانچہ چوہدری افضل حق صاحب مفکر احرار لکھتے ہیں۔" آریہ سماج کے معرض وجود میں آنے سے پیشتر اسلام جسد بے جان تھا جس میں تبلیغی حس مفقود ہو چکی تھی سوامی دیانند کی مذہب اسلام کے متعلق بدظنی نے مسلمانوں کو تھوڑی دیر کے لئے چوکنا کر دیا مگر حسب معمول جلدی خواب گراں طاری ہو گیا۔مسلمانوں کے دیگر فرقوں میں تو کوئی جماعت تبلیغی اغراض کے لئے پیدا نہ ہو سکی ہاں ایک دل مسلمانوں کی غفلت سے مضطرب ہو کر اٹھا ایک مختصر سی جماعت اپنے گرد جمع کر کے اسلام کی نشر و اشاعت کے لئے بڑھا۔اگر چہ مرزا غلام احمد صاحب کا دامن فرقہ بندی کے داغ سے پاک نہ ہوا۔تاہم اپنی جماعت میں وہ اشاعتی تڑپ پیدا کر گیا جو نہ صرف مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے لئے قابل تقلید ہے بلکہ دنیا کی تمام اشاعتی جماعتوں کے لئے نمونہ ہے ؟ پھر سید حبیب صاحب مدیر سیاست نے " تحریک قادیان" میں لکھا ہے۔اس وقت کہ آریہ اور مسیحی مبلغ اسلام پر بے پناہ حملے کر رہے تھے اکے دکے جو عالم دین بھی کہیں موجود تھے وہ ناموس شریعت حقہ کے تحفظ میں مصروف ہو گئے مگر کوئی زیادہ کامیاب نہ ہوا۔اس وقت مرزا غلام احمد صاحب میدان میں اترے اور انہوں نے مسیحی پادریوں اور آرید اپدیشکوں کے مقابلہ میں اسلام کی طرف سے سینہ سپر ہونے کا تہیہ کر لیا۔مجھے یہ کہنے میں ذرا باک نہیں کہ مرزا صاحب نے اس فرض کو نہایت خوبی و خوش اسلوبی سے ادا کیا اور مخالفین اسلام کے دانت کھٹے کر ¦ 4 ► اسی طرح مولانا ابو الکلام صاحب آزاد نے اخبار "وکیل" امر تسر میں اقرار کیا کہ - " آریہ سماج کی زہریلی کچلیاں توڑنے میں مرزا صاحب نے اسلام کی بہت خاص خدمت انجام دی ہے مرزا صاحب اور مولوی محمد قاسم صاحب نے اس وقت سے کہ سوامی دیا نیر نے اسلام کے متعلق اپنی دماغی مفلسی کی نوحہ خوانی جابجا آغاز کی تھی۔ان کا تعاقب شروع کر دیا تھا۔ان حضرات نے عمر بھر سوامی جی کا قافیہ تنگ رکھا جب وہ اجمیر میں آگ کے حوالے کر دیئے گئے اس وقت سے اخیر عمر تک برابر مرزا صاحب آریہ سماج کے چہرہ سے انیسویں صدی کے ہندو ریفار مر کا چڑھایا ہوا ملمع اتارنے میں مصروف رہے۔ان کی آریہ سماج کے مقابلہ کی تحریروں سے اس دعویٰ پر نہایت صاف روشنی پڑتی ہے کہ آئندہ ہماری مدافعت کا سلسلہ خواہ کسی درجہ تک وسیع ہو جائے نا ممکن ہے کہ یہ