تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 362 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 362

تاریخ احمدیت۔جلد ۶ خصوصاً اس لئے کہ حضور علیہ السلام خدا سے حکم پاکر یہ پیشگوئی فرما چکے تھے کہ ” مجھے یہ بھی صاف لفظوں میں فرمایا گیا ہے کہ پھر ایک دفعہ ہندو مذہب کا اسلام کی طرف زور کے ساتھ رجوع ہو گا"۔علاوہ ازیں حضور نے ملک میں ہندو راج کے علمبردار آریہ سماج تحریک کی نسبت فرمایا تھا کہ ابھی تم میں سے لاکھوں اور کروڑوں انسان زندہ ہوں گے کہ اس مذہب آریہ کو نابود ہوتے دیکھ لو گے۔A ہم نے اوپر اشارۃ " ذکر کیا ہے کہ آریہ سماجی تحریک کا منشاء ملک میں ہندو راج قائم کرنا تھا۔یہ صرف ہمارا ہی خیال نہیں بلکہ آریہ سماجی لٹریچر بھی اس کی تائید کرتا ہے مثلاً۔لالہ دھنیت رائے بی۔ایل ٹی نے لکھا۔”ہندوستان میں سوائے ہندو راج کے دو سرا راج ہمیشہ قائم نہیں رہ سکتا ایک دن آئے گا کہ ہندوستان کے سب مسلمان شد هی آدی (وغیرہ) آندولن کی وجہ سے آریہ سماجی ہو جائیں گے یہ بھی ہندو بھائی ہیں۔آخر صرف ہندو ہی رہ جائیں گے یہ ہمارا آورش ( نصب العین) ہے یہ ہماری آشا ( تمنا) ہے سوامی جی مہاراج نے آریہ سماج کی بنیاد اسی اصول کو لے کر ڈالی تھی " - 1 پنڈت رام گوپال جی شاستری نے تسلیم کیا۔" راج نیتک (پولٹیکل) آریوں کو اس بات کا فخر ہے کہ کانگریس کی بنیاد سے بھی پہلے سوامی دیانند نے دیش بھگتی اور سو راجیہ کا خیال دیا۔۔۔۔۔رشی دیا نند کی آریہ بھونے کی دیا کھیا کا کوئی منتر خالی نہیں جس میں سوراج پر اپنی ( حصول سوراج) کی AO- پرارتھنانہ ہو"۔پنڈت مند لال جی نے کہا۔” پنجاب کے سیاسی کارکنوں اور آزادی کی تحریک میں حصہ لینے والے نوجوانوں میں زیادہ تعداد آریہ سیوکوں (نوجوانوں) کی ہے یہ آریہ سماج کے لئے فخر کا مقام ہے۔سیاسی بیداری میں آریہ سماج نے جو کام کیا۔وہ کسی سے پوشیدہ نہیں "۔ہندو اخبار ” ملاپ " ( لاہور۲۷/ اکتوبر ۱۹۲۹ء) نے لکھا۔آریہ یووک (نوجوان) نہ انگریزوں کا راجیہ چاہتے ہیں نہ مسلمانوں کا بلکہ رام راجیہ چاہتے ہیں۔حضرت مسیح موعود اور آپ کی جماعت جماعت احمدیہ کو ہندوؤں کی "قومیت متحدہ" کا مسلسل جہاد ہندوؤں کی خلاف کے خلاف کسی طرح ایک مذہبی طاقت کی حیثیت حاصل تھی اور ہے ؟ اس کا نظریاتی پہلو ہم بتا چکے اسلام تحریکات کے خلاف ہیں اب ہم اس مبحث کے واقعاتی پہلو کی طرف