تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 361 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 361

تاریخ احمدیت۔جلد ۶ ۳۴۷ دوسری اغراض اس کی وجوہ ہیں جو دنیا کی خواہشوں اور معاملات سے متعلق ہیں مثلا ہندوؤں کو ابتداء سے یہ خواہش ہے کہ گورنمنٹ اور ملک کے معاملات میں ان کا دخل ہو یا کم سے کم یہ کہ ملک داری کے معاملات میں ان کی رائے لی جائے اور گورنمنٹ ان کی ہر یک شکایت کو توجہ سے سنے اور بڑے بڑے گورنمنٹ کے عہدے انگریزوں کی طرح ان کو بھی ملا کریں مسلمانوں سے یہ غلطی ہوئی کہ ہندوؤں کی ان کوششوں میں شریک نہ ہوئے اور خیال کیا کہ ہم تعداد میں کم ہیں اور یہ سوچا کہ ان تمام کوششوں کا اگر کچھ فائدہ ہے تو وہ ہندوؤں کے لئے ہے نہ کہ مسلمانوں کے لئے اس لئے نہ صرف شراکت سے دستکش رہے بلکہ مخالفت کر کے ہندوؤں کی کوشش کے سد راہ ہوئے جس سے رنجش بڑھتی گئی۔میں تسلیم کرتا ہوں کہ ان وجوہ سے بھی اصل عداوت پر حاشیے چڑھ گئے ہیں مگر میں ہرگز تسلیم نہیں کروں گا کہ اصل وجوہ یہی ہیں اور مجھے ان صاحبوں سے اتفاق رائے نہیں جو کہتے ہیں کہ ہندو مسلمانوں کی باہمی عداوت اور نفاق کا باعث مذہبی تنازعات نہیں ہیں۔اصل تنازعات پولٹیکل ہیں۔یہ بات ہر ایک شخص پاکستانی سمجھ سکتا ہے کہ مسلمان اس بات سے کیوں ڈرتے ہیں کہ اپنے جائز حقوق کے مطالبات میں ہندوؤں کے ساتھ شامل ہو جائیں اور آج تک ان کی کانگریس کی شمولیت سے انکار کرتے رہے ہیں اور کیوں آخر کار ہندوؤں کی درستی رائے محسوس کر کے ان کے قدم پر قدم رکھا مگر الگ ہو کر اور ان کے مقابل پر ایک مسلم انجمن (یعنی آل انڈیا مسلم لیگ ناقل) قائم کر دی مگر ان کی شراکت کو قبول نہ کیا۔صاحبو اس کا باعث در اصل مذہب ہی ہے اس کے سوا کچھ نہیں اگر آج وہی ہندو کلمہ طیبہ لا الہ الا الله محمد رسول اللہ پڑھ کر مسلمانوں سے آکر بغل گیر ہو جائیں یا مسلمان ہی ہندو بن کر اگنی وایو وغیرہ کی پرستش وید کے حکم کے موافق شروع کر دیں اور اسلام کو الوداع کہہ دیں تو جن تنازعات کا نام اب پولٹیکل رکھتے ہیں۔وہ ایک دم میں ایسے معدوم ہو جائیں کہ گویا کبھی نہ تھے (جیسا کہ کانگریس کا منتہائے مقصود تھا۔ناقل) پس اس سے ظاہر ہے کہ تمام غفوں اور کینوں کی جڑھ دراصل اختلاف مذہب ہے۔یہی اختلاف مذہب قدیم سے جب انتہا تک پہنچتا رہا ہے تو خون کی ندیاں بہاتا رہا ہے۔۔۔۔۔پس جب تک اس سبب کا ازالہ نہ ہو گا۔کیونکر ایک سچی صفائی پیدا ہو سکتی ہے ہاں ممکن ہے کہ منافقانہ طور پر باہم چند روز کے لئے میل جول بھی ہو جائے "۔صاف ظاہر ہے کہ سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ۱۹۰۸ ء میں ” دو قوموں " کا جو نظریہ پیش فرمایا وہ کانگریس اور متعصب ہندوؤں کی قومیت متحدہ" کے خلاف ایک کھلا چیلنج تھا | AF AG