تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 355 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 355

تاریخ احمدیت۔جلد ۶ اسم ٣ پنڈت موتی لال نہرو سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی سحر بیانی کے عاشق تھے انہیں کے پروگرام کے مطابق شاہ صاحب کام کر رہے تھے۔الہ آباد میں جب شاہ صاحب پنڈت موتی لال جی کے یہاں پہنچے تو پنڈت موتی لال جی نے خود شاہ صاحب کے کھانے کا بندوبست کیا اور اپنے ہاتھوں سے دونوں وقت چائے بنا کر پلائی۔پنڈت جی بار بار شاہ صاحب سے کہتے کہ شاہ صاحب کا نگریسی ستیہ گرہ کی کامیابی صرف آپ ہی سے وابستہ ہے۔کانگریس تحریک میں پنجاب کے احرار رہنماؤں کی شرکت اور شاہ صاحب کے دورہ کا یہ اثر ہوا کہ گاندھی ارون پیکٹ کے بعد جب بھی احرار رہنما گاندھی جی سے ملنے گئے تو گاندھی جی اٹھ کر دروازے تک خود احرار رہنماؤں کو لینے آئے یہ امتیازی بات تھی جو زندگی میں گاندھی جی نے صرف احرار رہنماؤں کی عزت و تکریم میں کی۔"رئیس الاحرار صفحہ ۱۳۶-۱۳۷ - مگر معامله محض تکریم و تعظیم تک ہی نہیں تھا بلکہ احرار کانگریس کی طرف سے مالی امداد کو جیسا کہ اس کے ذمہ دار کارکنوں کی چشم دید شہادت ہے کانگریس سے باقاعدہ روپیہ بھی ملتا تھا۔چنانچہ آغا عبد الکریم صاحب شورش کا شمیری (سابق جنرل سیکرٹری مجلس احرار اسلام) اپنے رسالہ چٹان " (مورخہ ۱۶ / اپریل ۱۹۵۱ء) میں لکھتے ہیں۔پہلا اقتباس : ”جہاں تک کانگریس کے روپے کا تعلق ہے وہ تو خود مولانا حبیب الرحمن کے علم میں ہے بلکہ پچاس ہزار روپے کی قسط دلوانے کے ذمہ داری آپ تھے۔رہا یونینسٹ پارٹی کے روپے کا سوال تو میرا مخبر تمام کا عذات شاہ جی یا مولانا غلام غوث ہزاروی) کو دکھانے کے لئے تیار ہے"۔دوسرا اقتباس: "جب مولانا دھتکار کر جانے لگے تو شاہ جی نے روک لیا ”مولوی صاحب آپ کہاں جا رہے ہیں آپ تشریف رکھیں۔آپ کے خلاف یا جماعت کے خلاف شورش کچھ چارج لگا رہا ہے "۔مولوی صاحب رک گئے۔میں نے ترتیب وار چارج لگانے شروع کئے کانگریس کا روپیہ ساٹھ ہزار دس ہزار کی ایک قسط اور پچاس ہزار کی دوسری قسط۔اور یونینسٹ پارٹی۔۔۔۔!! ابھی فقرہ پورا بھی نہ ہوا تھا کہ مولانا غلام غوث نے ایک ایک شق پر زور دیا۔کچھ دیر تو سناٹا چھایا رہا۔پھر سکوت ٹوٹا۔مولانا نے تسلیم کیا کہ روپیہ لیا گیا ہے لیکن اس وقت ان کے ذہن میں صحیح یاد نہیں کہ یہ رقم کتنی ہے بات صبح پر ملتوی ہو گئی۔مجھے صاحبزادہ فیض الحسن شاہ - مولانا مظہر علی اظہر کے مکان پر لے گئے۔رات وہیں کائی۔مولانا اس افشاء کو برا خیال کرتے تھے۔اور مضطرب بھی تھے لیکن وہ اخفاء کے حق میں تھے میں نے عرض کیا۔جب تمام لوگ آپ سے روپیہ لے چکے ہیں تو پھر وہ معصوم عن الخطاء کیوں بنتے ہیں؟