تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 354 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 354

تاریخ احمدیت۔جلد ۷ ۳۴۰ اموی اور عباسی عقائد کے مطابق تشریح کر رہے ہیں" |10|- گاندھی جی اور دوسرے کانگریسی ہندو راج کا خواب پورا کرنے کے لئے سر توڑ کوشش کر رہے تھے کہ انگریز کے بعد ملک کی زمام اقتدار کا نگریس کو سونپ دی جائے یہی بات صد ر احرار و امیر شریعت احرار سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے ساری عمرد ہرائی۔چنانچہ کہا۔"ہمارا پہلا کام یہ ہے کہ غیر ملکی طاقت سے گلو خلاصی حاصل ہو اس ملک سے انگریز نکلیں نکلیں کیا نکالے جائیں تب دیکھا جائے گا کہ آزادی کے خطوط کیا ہوں گے۔۔۔اگر اس مہم میں سٹور بھی میری مدد کریں گے تو میں ان کا منہ چوم لوں گا"۔احرار کے نزدیک کانگریس میں شمولیت اور اس کی راہ نمائی میں کام کرنے کی عظمت کتنی تھی اس کا کسی قدر اندازه مولوی حبیب الرحمن صاحب صدر آل انڈیا مجلس احرار اسلام کے ان الفاظ سے بآسانی لگ سکتا ہے۔ہماری ایماندارانہ رائے ہے کہ کانگریس سے علیحدہ ہو کر ہم نے جس قدر تحریکوں میں حصہ لیا ہے ان تمام میں بریکار وقت ضائع کیا ہے اور فضول ہنگامے برپا کئے " اسی پر بس نہ کرتے ہوئے انہوں نے ایک مقام پر کانگریس میں شمولیت کو "جہاد" قرار دیتے ہوئے یہ بیان دیا۔YA سیاسی جماعتوں کو زندہ رکھنا ایک مذہبی فریضہ ہے ہندوستان میں فوجوں اور ہتھیار سے جہاد نہیں ہو سکتا بلکہ یہاں پر یہی جہاد ہے کہ بے خوف ہو کر حق بات کہی جائے اور اس کے راستہ میں جو تکلیف آئے اسے خوشی کے ساتھ برداشت کیا جائے میرے نزدیک ایک والٹیر کی امداد ایک سیاسی جماعت کو منظم کرنا ہندوستان میں حقیقی جہاد ہے"۔گاندھی جی کا فلسفہ عدم تشدد" کانگریسی حلقوں میں اگر چہ عام طور پر مشہور تھا۔مگر اسے ہندوستان کے چپہ چپہ تک پہنچانے کی خدمت امیر شریعت احرار سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری نے انجام دی چنانچہ خود ہی اقرار کرتے ہیں۔میں تیس سال سے عدم تشدد کی تبلیغ کر رہا ہوں ہنگو سے ڈھاکہ تک اور شملہ سے بمبئی تک کروڑوں آدمیوں میں عدم تشدد کی تبلیغ کی اور لاکھوں کو اپنا رفیق بنایا "۔14- سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری کی انہی خدمات کی وجہ پنڈت نہرو کے پروگرام کی تعمیل سے کانگریسی لیڈر ان کا بے حد احترام کرتے تھے۔چنانچہ مولوی حبیب الرحمن صاحب لدھیانوی کی سوانح " رئیس الاحرار " میں لکھا ہے۔