تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 356 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 356

تاریخ احمد بیت جلد ۶ سلام سلام رات جو گزری سو گزری۔صبح پھر وہی حیث بحث صاجزادہ صاحب نے ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں کہیں یہ کہہ دیا کہ شورش اپنے الزام واپس لیتا ہے۔میں موجود نہ تھا۔جب پہنچاتو مجھے حیرت ہوئی۔خیر دوبارہ وہی قصہ چھڑ گیا۔مولانا مظہر علی نے تسلیم کیا کہ روپیہ لیا گیا ہے لیکن اس کے سزادار وہ تنہا نہیں بلکہ با قاعدہ مشورہ سے رقم قبول کی گئی۔پہلا دس ہزار روپیہ مولانا داؤد غزنوی نے دیا تھا اور شیخ حسام الدین اس وقت موجود تھے۔دوسری قسط بھی انہی حضرات کے مشورے سے حاصل کی گئی۔یعنی شیخ حسام الدین صاحب نے مولانا حبیب الرحمن کو لدھیانہ خط لکھا کہ وہ کلکتہ میں کانگریس ہائی کمانڈ تک پہنچیں۔یہ خط لے کر خاقان بابر مولانا مظہر علی کے صاحبزادے لدھیانہ پہنچے۔مولانا حبیب الرحمٰن کلکتہ گئے۔مولانا ابو الکلام ایک لاکھ روپے کے لگ بھگ رقم دینے کو تیار ہو گئے مگر سردار پٹیل نے جو کانگریس کے خازن تھے اس سے اختلاف کیا اور پچاس ہزار روپے کی رقم کا چیک لالہ معیم سین سچر کی تحویل میں دیا گیا۔جو ان کی معرفت دفتر احرار میں پہنچا۔پھر اس رقم کی بندربانٹ کی گئی۔اور وہ رقم جو دو چار ہزار بطور چندہ فراہم کی گئی۔یہ تمام مل ملا کر پچانوے یا پچاسی ہزار بنتے تھے جب مولانا مظہر علی نے بتایا کہ نواب زادہ نصر اللہ خاں کے سو اور کنگ کمیٹی کے ہر امیدوار ممبر نے ان سے روپیہ لیا ہے تو سب نے تسلیم کیا شیخ حسام الدین بھی مان گئے۔ماسٹر تاج الدین نے بھی سر ہلا دیا۔مولانا حبیب الرحمٰن نے بھی صاد کیا اس مجموعی رقم میں سے لے دے کر صرف میں ہزار بچتے تھے مولانا مظہر علی نے دس ہزار اپنے الیکشن کا صرفہ جتایا اور دس ہزار روپیہ کے متعلق کہا کہ وہ روزنامہ "آزاد" نکالنے کے لئے جمع رکھا گیا کانگرسی نوازشات کے نتائج کانگریس کی نوازشات رائیگاں نہیں گئیں بلکہ احرار نے بھی وفاداری کا حق ادا کر دیا اور کانگرس کی کامیابی کے لئے ملک کا چپہ چپہ چھان مارا۔چنانچہ انہیں کی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ انڈیا ایکٹ کے نفاذ کے بعد اکثر صوبوں میں کانگرسی حکومتیں قائم ہوئیں۔چنانچہ مولوی حبیب الرحمٰن صاحب لدھیانوی صدر آل انڈیا مجلس احرار نے ۱۲ / مارچ ۱۹۳۹ء کو ڈسٹرکٹ احرار پولٹیکل کا نفرنس لاہور میں تقریر کرتے ہوئے کہا۔کانگریس کی سول نافرمانی کے دنوں میں مجلس احرار جمعیت العلماء ہند اور سرحد کے مجاہد سرخپوش رضا کاروں نے جس ایثار قربانی کے ساتھ کام کیا وہ تاریخ میں سنہری حرفوں سے لکھنے کے قابل ہے سرحد کے مجاہد حبیب نور کی قربانی۔سردار بھگت سنگھ کی قربانی سے کم نہیں۔گزشتہ دنوں کی سول نافرمانی میں دو لاکھ مسلمان کانگریس کے جھنڈے تلے جمع ہو کر قید ہوئے جس کا اعتراف پنڈت جواہر لال نہرو نے بھی کیا۔مجھے کانگریس کا نمبر ہونے کا فخر ہے پنڈت جواہر لال اور سید عطاء اللہ شاہ نے