تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 352
تاریخ احمدیت۔جلد ۶ ٣٨ سم اس زمانہ میں صوبہ جات کی آزادی نے مسلمانوں میں صوبجاتی تعصب زیادہ کر دیا ہے۔اور ہر صوبہ چند خود غرض، نام نہاد لیڈروں کی آرزوؤں کے مطابق کام کر رہا ہے۔یہ لیڈر چونکہ طبقہ اولیٰ سے متعلق ہیں۔غریبوں کی خواہشات سے الگ ان کے اغراض ہیں اس لئے ہر صوبے کے مسلمان الگ الگ زاویہ نگاہ کے مطابق تربیت پا رہے ہیں۔ہندوستان میں غریب مسلمانوں کی یہ گروہ بندیاں صرف چند امراء کی خدمت کے کام آئیں گی۔جس طرح افریقہ اور ایشیا کے قبائل اور ملک شاہ و شیوخ میں تقسیم ہو کر برباد ہو رہے ہیں۔اسی طرح ہندوستان کے صوبے الگ الگ ہو کر پامال ہوں گے۔الحمد للہ احرار ان تحریکات سے بیزار ہیں۔صوبائی تعصبات کو پیدا کرنا اسلام کے اعضاء کو کاٹ کر الگ کرتا ہے۔مصر، لڑکی، عرب اور ایران، مراکش اور افغانستان نے الگ الگ رہ کر کیا فائدہ اٹھایا جو ہم ہندوستان میں اٹھا ئیں گے کیا یہ ممالک کسی بڑی یورپی سلطنت سے الگ الگ رہ کر دو دن بھی ٹکر لے سکتے ہیں۔ڈیڑھ اینٹ کی الگ مسجد چن کر امراء نے مسلمانوں کی عام قوتوں کو برباد کر رکھا ہے۔ہم مسلمانوں کی موجودہ پریشان حالی کا باعث شیوخ سلاطین اور امراء کو سمجھتے ہیں۔غریب مسلمان اب بھی دنیا کی عظیم قوت بن سکتے ہیں۔بشرطیکہ ان کے سر سے امراء شیوخ اور سلاطین کا منحوس سایہ اٹھ جائے "۔1- کانگریس کے لیڈروں کا دعویٰ تھا کہ کانگریس کے نظریات کی حیرت انگیز ترجمانی ملک میں کانگریس اور انگریز کے سوا اور ۵۸ کوئی نمائندہ جماعت نہیں۔یہی پر اپیگینڈا احراری زعماء نے کیا۔چنانچہ مولوی حبیب الرحمٰن صاحب نے یکم جنوری ۱۹۳۹ء کو تقریر کرتے ہوئے کہا۔”ہندوستان میں صرف دو جماعتیں ہیں ایک کانگریس اور دوسری حکومت برطانیہ " - پنڈت جواہر لال نہرو کے دل و دماغ پر روس کی تعلیم کا غلبہ تھا اور ان کی پختہ رائے تھی کہ ہندوستان کی ضرورت اور فقر و فاقہ کا علاج سوشل ازم ہے۔اسی لئے ان کی صدارت میں مزدوروں کی کانگریس کے اجلاس ناگپور میں یہ تجویز پاس ہوئی کہ ہندوستان کا نصب العین مکمل آزادی ہے جس میں روس کے نمونے پر سوشلسٹ جمہوری حکومت قائم کی جائے۔اس نکتہ کے پیش نظر اگر مجلس احرار کے اکابر کی تقاریر و خطبات کا گہرا مطالعہ کیا جائے تو صاف کھل جاتا ہے کہ یہ اصحاب سوشلزم کے بارے میں پنڈت جی کے غالی مقلدوں میں شامل تھے بلکہ ان کا خیال تھا کہ اسلام سوشلزم ہی کا دوسرا نام ہے۔چنانچہ چودھری افضل حق صاحب نے آل پنجاب مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن میں ۱۵ جنوری ۱۹۳۹ء کو تقریر کرتے ہوئے کہا۔اسلام در اصل سوشلزم ہے "۔