تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 351 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 351

تاریخ احمدیت۔جلد ۶ ٣٣ میں جانتا ہوں کہ میرے اس خیال پر ایک ہندو حیران رہ جائے گا کیونکہ اس نے ملا کی حمایت میں کبھی کچھ نہیں سنا۔مگر میرے پاس اپنے خیال کی تائید میں ٹھوس حقائق ہیں۔جمعیتہ العلماء صرف مذہبی علماء کی جماعت ہے یہ جماعت ہمیشہ کانگرس کا ساتھ دیتی ہے اور کانگرسیوں کے اعمال کے تضاد اور ان کی متلون مزاجیوں کو ہمیشہ صحیح ثابت کرتی ہے یہاں تک کہ انہیں ہندوؤں کا اجیر سمجھا جانے لگا ہے۔مولانا ابو الکلام آزاد کون ہیں؟ ایک بہت بڑی شہرت کے مالک مذہبی عالم۔ان کی مذہبیت نے انہیں نہ صرف عملی سیاسیات میں حصہ لینے پر مجبور کر دیا ہے۔بلکہ کانگریس اور ہندوؤں پر مسلمانوں کی طرف سے جو سخت حملے کئے جاتے ہیں وہ ان کا جواب بھی دیتے ہیں مسلمانوں کی ایک دوسری جماعت مجلس احرار ہے یہ غریبوں کی جماعت ہے اس کی قیادت مذہب کے شیدائیوں کے ہاتھ میں ہے وہ ہندوؤں سے زیادہ ہمدردانہ سلوک کرتے ہیں اور غیر مسلم ہمسایوں کے ساتھ بردباری برتنے کی تعلیم دیتے ہیں وہ مسلمان جماعتیں جن کی تہہ میں مذہب کام نہیں کر رہا۔وہ نہ صرف کبھی کبھی بلکہ ہمیشہ ہندوؤں اور کانگریس کے خلاف صف آراء رہتی ہیں۔کیا ان حقائق کی موجودگی میں ملا کے متعلق ہماری رائے تبدیل نہیں ہونی چاہئے اور کیا ان کا یہ مطلب نہیں کہ ہمارے موجودہ اختلافات کو مذہب سے کوئی تعلق نہیں؟ ایک اور حقیقت پر بھی نظر ڈالئے۔مسلمانوں کی دو یونیورسٹیاں ہیں ایک علی گڑھ میں دو سری دیوبند میں۔اول الذکر میں دنیوی علوم پڑھائے جاتے ہیں اور ثانی الذکر میں مذہبی تعلیم دی جاتی ہے۔علی گڑھ کے طلباء کی ذہنیت تقریباً ہمیشہ ہی برطانیہ کی حامی اور ہندو کی مخالف رہی ہے۔مگر دیو بند کے علماء برطانیہ کے مخالف اور کانگریس کے حامی ہیں۔مسلم لیگ کی رہنمائی علی گڑھ اور انگریزی یونیورسٹیوں کے سند یافتوں کے ہاتھ میں ہے۔جمعیتہ العلماء کے ارکان کے مقابلہ میں انہیں اسلام کے متعلق کچھ علم نہیں۔اگر ہمارے اختلافات مذہب کی بناء پر ہوتے تو جمعیتہ العلماء اور مجلس احرار کانگریس اور ہندوؤں کی مسلم لیگ سے بھی زیادہ مخالفت کرتیں۔اور اگر موجودہ پیچیدگیاں اور کشمکش تھوڑا سا بھی مذہب کی بناء پر ہو تیں تو مسلمانوں کی قیادت مسٹر جناح کے ہاتھ میں نہ ہوتی جو ایک لائق قانون دان اور بہترین سیاس ہیں۔لیکن یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ مذہبی معلومات کے لحاظ سے وہ ہر مسلمان سے پیچھے ہیں۔قومیت متحدہ کی تائید میں ایک اور احراری دلیل چودھری افضل حق صاحب نے "قومیت متحدہ " کی تعمیر کے سلسلہ میں یہ نظریہ بھی پیش کیا۔