تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 353 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 353

تاریخ احمدیت - جلد 1 ۳۳۹ چودھری صاحب نے اپنے اس نقطہ کی وضاحت " تاریخ احرار " میں یہ کی ہے کہ۔ابتداء ہی سے مجلس احرار کے ذمہ دار احراری لیڈروں کے سامنے یہی مقصد حیات تھا کہ مزدور اور کسان کو خاص حقوق اور مراعات رکھنے والے لوگوں کے خلاف منظم کیا جائے۔تاکہ ان امتیازی خاندانوں اور مالداروں کو غریب کاشتکاروں اور مزدوروں کی محنت کا ثمرہ اڑالے جانے سے روکا جائے اور اسلام اور اشتراکیت کا لٹریچر ان ہی چند فقروں کی تفصیل ہے "۔چودھری افضل حق صاحب ڈکٹیٹر احرار نے اسلامی سوشلزم کے علمبرداروں کی نشان دہی کرتے ہوئے یہ بھی لکھا۔اگر جواہر لال اور گاندھی خلفائے راشدین کی پیروی میں سوسائٹی میں نابرابری کے سارے نقوش کو مٹائے چلے جائیں تو بطور مسلمان کے ہمیں نقصان کیا؟ " حقیقت یہ ہے کہ ” خلفائے راشدین " کا نام تو محض مسلمانوں کے جذبات کو اپیل کرنے کے لئے تھا ورنہ چودھری صاحب کے نزدیک تو اسلام کی ساری تاریخ "شہنشاہیت اور جاگیرداری " کی کہانی ہے۔چنانچہ لکھتے ہیں۔لوگ بجاطور پر پوچھتے ہیں کہ احرار کو کیا ہو گیا کہ مذہب کی دلدل میں پھنس گئے یہاں پھنس کر کون نکلا ہے جو یہ نکلیں گے۔مگر یہ کون لوگ ہیں وہی جن کا دل غریبوں کی مصیبتوں سے خون کے آنسو روتا ہے۔وہ مذہب اسلام سے بھی بیزار ہیں۔اس لئے کہ اس کی ساری تاریخ شہنشاہیت اور جاگیرداری کی دردناک کہانی ہے۔کسی کو کیا پڑی ہے کہ وہ شہنشاہیت کے خس و خاشاک کے ڈھیر کی چھان بین کرکے اسلام کی سوئی کو ڈھونڈے تاکہ انسانیت کی چاک دامانی کار فوکر سکے۔اس کے پاس کارل مارکس کے سائنٹفک سوشلزم کا ہتھیار موجود ہے۔وہ اس کے ذریعے سے امراء اور سرمایہ داروں کا خاتمہ کرنا چاہتا ہے اسے اسلام کی اتنی لمبی تاریخ میں سے چند سال کے اوراق کو ڈھونڈ کر اپنی زندگی کے پروگرام بنانے کی فرصت کہاں؟ سرمایہ داروں نے ان برسوں کی تاریخ کے واقعات کو سرمایہ داری کے رنگ میں رنگا اور مساوات انسانی کی تحریک جس کو اسلام کہتے ہیں مذہبی لحاظ سے عوام کی تاریخ نہ رہی اور نہ اس میں کوئی انقلابی سپرٹ باقی رہی۔عامتہ المسلمین امیروں جاگیرداروں کے ہاتھ میں موم کی ناک بن کر رہ گئے۔ہندوستان میں اس وقت بھی وہ سب سے زیادہ مفلوک الحال مگر حال مست ہیں انہیں اپنے حال کو بدلنے کا کوئی احساس نہیں یہ کیوں ہوا؟ اس لئے کہ خود علمائے مذہب انقلابی سپرٹ سے نا آشنا ہیں اور وہ اب تک مذہب کی