تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 349 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 349

تاریخ احمدیت - جلد ؟ ۳۳۵ دو سرا باب (فصل دوم) کانگرسی "قومیت متحدہ " کی تعمیر کے لئے مجلس احرار اسلام کا قیام قومیت متحدہ مولانا ابو الکلام آزاد نے مولوی ظفر علی خاں صاحب مدیر "زمیندار" کی " متحدہ قومیت" کے فار مولا کو مسلمانوں میں مقبول بنانے اور کانگریس کے ہر پروگرام کو عملی جامہ پہنانے کے لئے دسمبر ۱۹۲۹ء میں پنجاب کے سابق خلافتی علماء کی ایک نئی مجلس کی بنیاد رکھی جس کا نام مجلس احرار اسلام تجویز کیا گیا۔چنانچہ مجلس احرار اسلام ہند کے ترجمان اخبار مجاہد (۱۴/ اگست ۱۹۳۵ء) میں لکھا ہے۔" جب آل انڈیا کانگریس کمیٹی کا اجلاس لاہور میں منعقد ہوا تو امام الہند حضرت مولانا ابو الکلام صاحب آزاد کی موجودگی میں یہ مسئلہ پیش ہوا کہ مسلمانوں کی ایک علیحدہ آزاد خیال جماعت قائم کی جائے جو مسلمانوں کو مذہب کے ساتھ ساتھ وطنیت کا بھی سبق دیتی رہے اور مسلم قوم کو رجعت پسندوں کے دجل و فریب سے بچائے رکھے سب نے اس پر اتفاق کیا اور اس معاملہ پر کافی دیر بحث ہوتی رہی کہ نام کیا تجویز کیا جائے باہمی مشورہ سے یہ طے پایا کہ اس مجلس کا نام مجلس احرار اسلام ہو جسے سب دوستوں نے بخوشی قبول کر لیا "۔عزیز الرحمن صاحب جامعی (مولوی حبیب الرحمٰن صاحب لدھیانوی کے بیٹے) اپنی کتاب - "رئیس الاحرار " مولانا حبیب الرحمن صاحب لدھیانوی اور ہندوستان کی جنگ میں رقمطراز ہیں۔۱۹۲۹ء کے کانگریس کے اجلاس میں ۲۹ دسمبر ۱۹۲۹ء کو مولانا آزاد کے مشورہ پر آل انڈیا کانگریس کے سٹیج پر چودھری افضل حق صاحب کی صدارت میں مجلس احرار کا پہلا جلسہ ہوا۔مجلس مشاورت میں مولانا حبیب الرحمٰن لودھیانوی مولانا سید داؤ د احمد غزنوی۔۔۔۔۔۔۔اور مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری۔مولانا مظہر علی صاحب خواجہ عبد الرحمن غازی نے باہم مشورہ کر کے مولانا آزاد کے تجویز کردہ نام کے مطابق مجلس احرار ہند قائم کی اور مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری مجلس احرار کے پہلے صدر