تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 350 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 350

تاریخ احمدیت۔جلد ۶ ۳۳۶ ۵۵ منتخب ہوئے۔کانگریس کی طرف سے عام سول نافرمانی کا آغاز ہو گیا تھا۔اس لئے سب احرار کی تنظیم کو چھوڑ کر کانگریس تحریک میں شامل ہو گئے۔گاندھی ارون معاہدے کے بعد احرار رہنماؤں نے رہا ہوتے ہی پنجاب مجلس احرار کے اضلاعی اور شہری دفاتر قائم کر دیئے۔احرار رہنماؤں نے یک سو ہو کر کانگریس کے نئے فارمولے پر غور کرنا شروع کیا - مجلس احرار کے قیام سے کانگریس کو مسلمانوں میں نفوذ کر کے اپنے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانا آسان ہو گیا۔کانگریس جو کہتی اس کو ملک کے گوشے گوشے تک پہنچانا اور اس کے مطابق مسلمانوں کو ڈھالنا احراری لیڈروں نے اپنے ذمہ لے لیا۔اور عجیب و غریب رنگ سے قومیت متحدہ " کا پرچار کرنے لگے۔احراری زعماء کی طرف سے ”قومیت متحدہ" کے دلائل چنانچہ مفکر احرار چودھری افضل حق صاحب نے ( قومیت متحدہ " کی تائید میں ایک نئے زاویہ نگاہ سے لکھا۔ہندوستانی اسلام ستاتن دھرم کا عربی ترجمہ ہے اور سکھ مت اور آریہ سماج تحریک اصلی اسلام کے گور مکھی اور ہندی ایڈیشن ہیں لیکن ہندوؤں اور مسلمانوں میں پھر بھی مخاصمت موجود ہے اور سکھ اور سماجی ہمیشہ ہندوؤں کا ساتھ دیتے ہیں۔جب میں ان حقائق پر نظر ڈالتا ہوں تو میرا ذہن یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ ہندو مسلم مسئلہ کوئی مذہبی مسئلہ نہیں اور ہمیں ملک کی موجودہ حالت کے اصلی اسباب تلاش کرنے چاہئیں۔یہ غلط نظریہ عام ہو چکا ہے کہ صرف صوفی ہی دوسروں کے ساتھ رواداری برتے ہیں اور مذہبی ملا بہت زیادہ متعصب ہوتا ہے۔مجھے اس سے کوئی انکار نہیں کہ ملا قدامت پسند ہے لیکن تمام مسلمان اس شخص کے سخت مخالف ہیں، جو دو سروں پر کسی قسم کا ظلم کرے۔کافر کوئی مکروہ اصطلاح نہیں۔یہ غیر مسلمانوں سے متمیز کرنے کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔کافر کے معنے خدا کو نہ ماننے والا ہے۔اگلی دنیا میں یہ اپنے کئے کی سزا بھگتیں گے۔لیکن اس دنیا میں ان سے کوئی برا سلوک نہیں کیا جاتا۔اسلام کافروں کو بھیڑیوں کے سامنے نہیں پھینک دیتا بلکہ ان کی حفاظت کرتا ہے۔ملا کا رویہ مسلمانوں کے ساتھ سخت اور غیر روادارانہ ہوتا ہے لیکن کافروں کے ساتھ اس کا سلوک ہمدردانہ ہوتا ہے اپنی قوم میں اس کی حیثیت پولیس افسر کی ہے کہ ہر کوئی اس سے ڈرے لیکن غیر مسلموں کے لئے وہ محبت و الفت کا علمبردار ج المشرب مسلمان اسے ایک تند خود یو سمجھتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک خنداں مزاج دیوتا ہے جو دو سروں اور بالخصوص کافروں کی ہمیشہ بھلائی چاہتا ہے۔ہے۔وسیع ا