تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 348
تاریخ احمدیت۔جلد ۷ ۳۳ جاتا ہے میں اس کی تکوین (بناوٹ) کا ایک ناگزیر عامل FACTOR ہوں میں اپنے اس دعوئی سے کبھی دست بردار نہیں ہو سکتا۔۔۔۔گیارہ صدیوں کی مشترک (ملی جلی) تاریخ نے ہماری ہندوستانی زندگی کے تمام گوشوں کو اپنے تعمیری سامانوں سے بھر دیا ہے ہماری زبانیں ہماری شاعری ، ہمارا ادب ہماری معاشرت ہمارا ذوق ہمار الباس ہمارے رسم و رواج ، ہماری روزانہ زندگی کی بے شمار حقیقتیں کوئی گوشہ بھی ایسا نہیں ہے جس پر اس مشترک زندگی کی چھاپ نہ لگ سکی ہو۔ہماری بولیاں الگ تھیں مگر ہم ایک ہی زبان بولنے لگے۔ہمارے رسم و رواج ایک دوسرے سے بیگانہ تھے مگر انہوں نے مل جل کر ایک نیا سانچہ پیدا کر دیا۔ہمارا پر اتالبان ، تاریخ کی پرانی تصویروں میں دیکھا جا سکتا ہے مگر وہ اب ہمارے جسموں پر نہیں مل سکتا۔یہ تمام مشترک سرمایہ ہماری متحدہ قومیت کی ایک دولت ہے اور ہم اسے چھوڑ کر اس زمانہ کی طرف لوٹنا نہیں چاہتے۔جب ہماری یہ ملی جلی زندگی شروع نہیں ہوئی تھی ہم میں اگر ایسے ہندو دماغ ہیں جو چاہتے ہیں کہ ایک ہزار برس پہلے کی ہند و زندگی واپس لائیں تو انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ وہ ایک خواب دیکھ رہے ہیں جو کبھی پورا ہونے والا نہیں اسی طرح اگر ایسے مسلمان دماغ موجود ہیں جو چاہتے ہیں کہ اپنی گزری ہوئی تہذیب و معاشرت کو پھر تازہ کریں۔جو وہ ایک ہزار برس پہلے ایران اور وسط ایشیا سے لائے تھے تو میں ان سے بھی کہوں گا کہ اس خواب سے جس قدر جلد بیدار ہو جا ئیں بہتر ہے۔کیونکہ یہ ایک قدرتی تخیل ہے اور حقیقت کی سرزمین میں ایسے خیالات اگ نہیں سکتے۔۔۔۔ہماری ایک ہزار برس کی مشترک زندگی نے ایک متحدہ قومیت کا سانچہ ڈھال دیا ہے ایسے سانچے بنائے نہیں جاسکتے۔وہ قدرت کے مخفی ہاتھوں سے صدیوں میں خود بخود بنا کرتے ہیں۔اب یہ سانچہ ڈھل چکا اور قسمت کی مہر اس پر لگ چکی۔ہم پسند کریں یا نہ کریں مگر اب ہم ایک ہندوستانی قوم اور ناقابل تقسیم ہندوستانی قوم بن چکے ہیں۔علیحدگی کا کوئی بناوٹی تخیل ہمارے اس ایک ہونے کو دو نہیں بنا سکتا۔ہمیں قدرت کے فیصلہ پر رضامند ہونا چاہئے اور اپنی قسمت کی تعمیر میں لگ جانا چاہئے۔At