تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 343
تاریخ احمدیت جلد ۳۲۹ قید ہیں مجھے بتایا ہے کہ ہندو کارکن مسلمانوں کے خلاف اچھوتوں میں نفرت کی تلقین کر رہے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ یو۔پی ، بہار اور اڑیسہ میں اچھوت اب مسلمانوں کو اچھوت سمجھنے لگے ہیں"۔مولوی مظہر علی صاحب اظہر کا اقرار ہندوؤں کی روش کی نسبت چوہدری افضل حق صاحب کے حقیقت افروز بیانات کے بعد اب ہم مجلس احرار اسلام کے بعض دوسرے قائدین کی اہم شہادتیں زیب قرطاس کرتے ہیں۔مولوی مظہر علی صاحب اظہر قائد احرار لکھتے ہیں۔”ہندوؤں کو انگریزی عملداری کے ابتدائی دور میں جو حد اور حق سے زیادہ حصہ مال و دولت، تعلیم و ملازمت، صنعت و تجارت میں ہاتھ آیا اور انہیں مسلمانوں پر جو فائق اقتدار حاصل ہو اوہ اس کو چھوڑنے پر آسانی سے تیار نہیں ہو سکے۔انہوں نے صوبجاتی معاملات میں کو تاہ اندیشی سے کام لے کر تمام ہندوستان میں جھگڑے کی بنیاد کو وسیع کیا"۔مولوی مولوی حبیب الرحمٰن صاحب لدھیانوی کا بیان ہندوؤں کی نسبت الرحمن صاحب لدھیانوی نے ہندو اکثریت کی سیاسی تنظیم نیشنل کانگریس کی نسبت یہ رائے قائم کی۔میں اگرچہ کانگریسی ہوں اور میں نے ہمیشہ کانگریس کے جھنڈے تلے کام کیا ہے مگر مجھے اس کے کہنے میں پس و پیش نہیں ہے کہ کانگریس کی محنت اور قربانی کا نتیجہ اس سے زیادہ اور کچھ نہیں ہو سکتا کہ ہندوستان کی حکومت انگریزی سرمایہ داروں کے ہاتھ سے نکل کر ہندوستان کے سرمایہ داروں کے ہاتھ دے دی جائے۔بلکہ ڈومینین سٹیٹس کی شکل میں تو جو حکومت ہندوستان پر قائم ہوگی اس میں ہندوستانی اور انگریز سرمایہ دار مل کر یہاں کے غرباء کو کچلنے کی کوشش کریں گے "۔kr شیخ حسام الدین صاحب بی۔اے کا تائیدی بیان اس کی تائید میں شیخ حسام الدین کہ صاحب بی۔اے نے کھلا اقرار کیا شہروں کی آبادیاں جو کل تک مسلمانوں کے قبضہ و تصرف میں تھیں ایک ایک کر کے نکل رہی ہیں۔جائیدادیں بک گئیں۔زمینیں نیلام ہو گئیں۔تجارت پر تمہار اقبضہ نہیں۔کارخانوں میں مزدور کی حیثیت سے دوسروں کے محتاج - پس ایسے حالات میں سیاسی آزادی بھی من حیث الجماعت کوئی فائدے کی چیز ہو سکتی ہے ؟ ہر گز نہیں بلکہ اس کا نتیجہ یہ ہو گا جس کو ہم اس وقت بھی دیکھ رہے ہیں کہ