تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 341
تاریخ احمدیت۔جلد ۶ ۳۲۷ مولانا ابو الکلام آزاد کا بیان ہندو کی تنگ ظرفی سے متعلق چنانچہ مولانا ابو الکلام صاحب آزاد مسلمانوں کے خلاف ہندوؤں کی تنگ ظرفی اور تعصب جبلی سے متعلق تحریر فرماتے ہیں۔جہاں تک ملکی حقوق و فوائد کے معاملات کا تعلق ہے۔۔۔ہندوؤں کا جماعتی وصف تنگ دلی اور کو تاہ دستی ہے وہ چیز جسے دل کا کھلا ہونا اور طبیعت کی فیاضی کہتے ہیں۔ہمارے ہندو بھائیوں میں پیدا نہ ہو سکی اور میں یقین کرتا ہوں کہ ایک ہزار برس سے ایسے حالات موجود ہیں کہ پیدا ہو بھی نہیں سکتی تھی۔نتیجہ یہ ہے کہ وہ اس طرح کے معاملات کو کبھی کشادہ دلی اور وسعت ظرف کے ساتھ نہ دیکھ سکے۔اگر دیکھ سکتے تو کب کا یہ سارا جھگڑا ختم ہو جاتا لیکن تجربے نے ثابت کر دیا کہ وہ ایسا نہ کر سکے "۔ITA چوہدری افضل حق صاحب کی نگاہ میں ہندوؤں کے ہاتھوں مسلمان قوم کس طرح اچھوت بن کے رہ گئی اور اسے اقتصادی اور ہندوؤں کی مسلمانوں کے خلاف تباہ کاریاں " سماجی لحاظ سے عضو معطل بنا دیا گیا؟ اس کی مسلمان دردناک تفصیل مفکر احرار چوہدری افضل حق صاحب کے قلم سے پڑھئے۔دو قوموں کے قرب کو بعد میں بدلنے والی چیز ہے ہندوؤں کی چھوت چھات۔اگر کوئی کسی کو ناپاک سمجھے پھر اس سے رفاقت کی امید کرے یہ بس ہو کر کاٹنے کی امید لگاتا ہے۔دنیا کا کون بد نصیب ملک ہے جہاں کوئی اسیران جنگ کے ساتھ وہ سلوک کرے جو ہندو آئے دن مسلمانوں اور اچھوتوں سے برتتے ہیں؟ مسلمان عوام ہندو کے آئے دن کے طرز عمل سے ایسے برگشتہ ہیں کہ کوئی بڑے سے بڑا حادثہ مسلمانوں کے دل سے ہندوؤں کے سلوک کے رد عمل کو دور نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔ہندو مسلم اتحاد کی دعوت پر برک جاتے ہیں اور کہتے ہیں ایسی قوم سے اتحاد جو ہمسایہ کو نجس سمجھے کیسے ہو ؟ یہی چھوت چھات ہندوؤں کی تجارتی ترقی کا راز ہے۔مسلمان ہندو کی دکان کا گاہک تو ہے مگر ہندو مسلمان کے مال تجارت کا خریدار شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ سرمائے کا میلان اور اس کی رو ایک ہی طرف رہتی ہے مسلمان کا سرمایہ ہندو کے گھر جاتا ہے۔ہندو کا مال مسلمان کے ہاں قسمت سے ہی آتا ہے۔اس طرح وہ مجلسی اور اقتصادی طور پر ہندوؤں کو ظالم ترین قوم سمجھنے پر مجبور ہے۔جب تک ہندو اپنا طرز عمل نہ بدلے مسلمان اس کے متعلق اپنی رائے نہ بدل سکے گا۔مسلمان کیا ان حالات میں کوئی قوم ہوتی اس کا طرز عمل وہی ہو تا جو مسلمانوں کا ہے۔اس سلوک کے علاوہ اب ایک اور دقت در پیش ہے ایسی تنگ دل اکثریت کو آئندہ آئین میں کلی اقتدار حاصل ہو جائے گا۔مسلمان