تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 340
تاریخ احمدیت جلد ۲ PHY اس کے علاوہ خلیفتہ المسلمین ترکی نے انگریزی افواج کو گزرنے میں بھی مدد دی۔چنانچہ شیخ عبد القادر صاحب بی۔اے بیرسٹرایٹ لاء سیکرٹری خلافت کمیٹی سیالکوٹ اپنے رسالہ " ترکوں کے ارمنوں پر فرضی مظالم " میں تسلیم کرتے ہیں کہ ۱۸۵۷ء میں ہندوستان میں غدر مچا اس غدر کو فرو کرنے کے لئے انگریزوں کی افواج کو مصر سے گزر کر ہندوستان پہنچنے کی اجازت حضور خلیفتہ المسلمین سلطان المعظم نے ہی دی تھی جنوبی افریقہ میں جنگ بوئر ہوئی۔ترکی نے انگلستان کا ساتھ دیا۔ہزار ہا ترکوں نے انگریزی جھنڈے کے نیچے لڑنے مرنے کے لئے اپنی خدمات پیش کر دیں۔مساجد میں انگریزوں کی فتح و نصرت کے لئے دعائیں کی گئیں"۔م هر ہندوؤں کی جھوٹی مخبریوں اور جھوٹی گواہیوں یہ امرپایہ ثبوت تک پہنچانے کے بعد کہ ۱۸۵۷ء کی بدولت مسلمانوں کا دردناک حشر کی نام نہاد تحریک آزادی کے محرک ہرگز مسلمان نہیں تھے۔اور سارا منصوبہ ہندو قوم نے اپنے اقتدار و استیلاء کے لئے تیار کیا تھا۔اب ہم یہ درد ناک حقیقت پیش کرتے ہیں کہ اگر چہ اس تحریک کے کرتا دھرتا ہندو تھے۔مگر جب یہ ناکام ہو گئی تو نقصان مسلمانوں کو پہنچا کیونکہ انگریزوں نے جب ملک پر پورا تسلط قائم کر لیا اور پھر پکڑ دھکڑ شروع ہوئی تو تحریک کے بانی تو روپوش ہو گئے۔مگر آفت رسیدہ مسلمان اپنے ہی یاران وطن کی جھوٹی شکایتوں ، جھوٹی گواہیوں اور جھوٹی مخبریوں کی بدولت پکڑ لئے گئے۔غدر کی تمام ذمہ داری بے جا طور پر مسلمانوں کے سرمنڈھ دی گئی۔وہ چن چن کر مارے گئے۔گولیوں سے اڑائے گئے تختہ دار پر لٹکائے گئے سینکڑوں خاندان اجڑ گئے۔بے شمار جائیدادیں ضبط کی گئیں اور دلی کا وہ تخت جو بد قسمت حکومت مغلیہ کی آخری یادگار تھا ہمیشہ کے لئے چھن گیا۔مسلمانوں کی اس قیامت خیز تباہی کے مقابل ہندوؤں کا مسلمانوں کی جائدادوں پر قبضہ ہندوؤں نے انگریزوں سے مل کر ہاتھ رنگے۔بغاوت سے پہلے جو اکثر جائدادیں مسلمانوں کے قبضہ میں تھیں ان پر ہندو قابض ہو کر رئیں بن گئے۔اور بر سر اقتدار انگریزی حکومت سے گہرا ربط ضبط قائم کر کے جہاں ملک میں اپنے قدم مضبوط کرلئے وہاں مسلمانوں کے خلاف خوب کان بھرے۔نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمانوں کی عزت وسطوت بالکل خاک میں مل گئی اور رہی سہی کسر ہندوؤں کے مجلسی و اقتصادی بائیکاٹ اور ان کے مسلم آزار بلکہ انسانیت سوز سلوک نے پوری کردی۔