تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 333 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 333

تاریخ احمدیت جلد ۶ عدالت کے سامنے دیا تھا۔٣١٩ اصل حقیقت یہ ہے غدر کے روز کی مجھے پہلے سے خبر نہیں تھی۔آٹھ بجے کے قریب باغی سوار دفعہ آئے۔۔A باغی سپاہ دیوان خانہ میں گھس آئی۔۔۔۔اور مجھے چاروں طرف سے گھیر کر پہرہ متعین کر دیا میں نے ان کا مطلب دریافت کیا اور چلے جانے کو کہا۔جس کے جواب میں انہوں نے خاموش کھڑے رہنے کو کہا اور کہا کہ جب انہوں نے اپنی زندگیوں کو خطرہ میں ڈالا ہے تو اب اپنی طاقت کے موافق سب کچھ کر کے چھوڑیں گے۔خوف کھا کر کہیں میں قتل نہ کر دیا جاؤں میں نے منہ سے اف تک نہ کی اور چپ چاپ اپنے کمرہ میں چلا گیا۔شام کے وقت یہ نمک حرام کئی انگریز مرد و عورت کو گرفتار کر کے لائے۔جن کو انہوں نے میگزین میں پکڑا تھا اور ان کے قتل کا قصد کرنے لگے۔میں نے باز رہنے کی درخواست کی۔اس وقت تو میں ان انگریزوں کی جان بچانے میں کامیاب ہو گیا۔مگر باغی سپاہیوں نے انہیں اپنی حراست میں رکھا متواتر دو موقعوں پر انہوں نے انگریزوں کے قتل کا قصد کیا اور میں نے منت و سماجت کر کے باز رکھا اور قیدیوں کی جانیں بچالیں۔آخری وقت اگر چہ میں مفسد بلوائیوں کو حتی المقدور باز رکھنے کی کوشش کرتا رہا۔مگر انہوں نے میری طرف مطلق التفات نہیں کیا اور ان بے چاروں کو قتل کرنے باہر لے گئے۔میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جو میرا گواہ ہے کہ میں نے مسٹر فریز ریا اور کسی انگریز کے قتل کا حکم نہیں دیا۔مکند لال و دیگر گواہان نے کہا ہے کہ ”میں نے حکم دیا ہے "۔غلط ہے۔مرزا مغل و مرزا خضر سلطان نے احکام دیئے ہوں تو تعجب نہیں کیونکہ وہ سپاہ سے مل گئے تھے بعد ازاں فوجیں مرزا مغل و مرزا خضر سلطان و مرزا ابو بکر کو میرے سامنے لائیں اور کہا کہ ”ہم انہیں اپنا سردار بنانا چاہتے ہیں" میں نے ان کی درخواست رد کر دی۔لیکن جب سپاہ ضد کرنے لگی اور مرزا مغل غصہ ہو کر اپنی والدہ کے مکان پر چلا گیا۔تو میں سپاہیوں کے خوف سے ساکت رہ گیا اور پھر طرفین کی رضامندی سے مرزا مغل کمانڈر انچیف افواج مقرر ہوا۔میری مہر کے ثبت شدہ اور دستخط کئے ہوئے احکام کی نسبت معاملہ کی اصل حالت یہ ہے کہ جس روز سے سپاہ آئی انگریزی افسروں کو قتل کیا اور مجھے مقید کر لیا۔میں ان کے اختیار میں رہا۔جیسا کہ اب ہوں تمام کاغذات جو مناسب سمجھتے میرے پاس لاتے اور مجھے مہر ثبت کرنے پر مجبور کرتے بسا اوقات احکام کے مسودے لاتے اور میرے سیکرٹری سے انہیں صاف کرواتے کبھی اصلی کا غذات لاتے اور ان کی نقلیں دفتر میں رکھ دیتے۔اس لئے کئی خطوط تحریر میں روئیداد کی فائل بن گئی ہیں۔بارہا انہوں نے خالی لفافوں پر مہر ثبت کرالی ہے نہیں معلوم ان میں انہوں نے کون سے کاغذات بھیجے اور کہاں بھیجے۔۔۔میں نے کبھی ان کی کانفرنس میں شرکت نہیں کی انہوں نے اس