تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 332 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 332

۳۱۸ تاریخ احمد بیت - جلد ۲ میں یوروپین اور مسلمانوں پر چماروں کو ترجیح دیتا ہوں۔اگر مجھے کسی ایسے ملک میں جانے کا اتفاق ہو جہاں اچھوتوں اور مسلمانوں اور یوروپینوں کے سوا اور کوئی نہ ہو تو میں یورپینوں اور مسلمانوں کے ہاتھ کا پانی پینے کی بجائے چماروں اور اچھوتوں کا پانی پینا پسند کروں گا کیونکہ اچھوت میرے دھرم بھائی ہیں۔مسلمانوں سے اس درجہ نفرت کے باوجود ہندوؤں کے لئے بیک وقت دو قوموں سے الجھنا بہت بڑی تنظیم، وقت اور قوت چاہتا تھا۔اس لئے ہندوؤں نے ہوشیاری اور چالاکی سے کام لیتے ہوئے مسلمانوں کو آلہ کار بنانا ضروری خیال کیا۔تا ان کی مدد سے انگریزوں کو نکال کر پورے ملک پر خود قبضہ کر لیں اور مسلمان جو پہلے ہی کمزور اور درماندہ ہو چکے ہیں۔انگریزوں سے ٹکر لینے پر اور بھی خفیف ہو جائیں گے تو ان کو غلام بنا لینا آسان ہو جائے گا۔موجودہ وقت کے اکثر اہل قلم اور تاریخ نویس اگر چہ غدر ۱۸۵۷ء کو انقلاب آزادی کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔اور مسلمانوں کا ایک پر جوش طبقہ تو اسے جہاد حریت قرار دیتا ہے۔مگر جب اس زمانہ کی چشم دید شہادات اور مستند دستاویزات کا مطالعہ کیا جائے تو ان واقعات کے پس پردہ صاف طور پر ہندو قوم کا ہاتھ کام کرتا دکھائی دیتا ہے۔چنانچہ اس سلسلہ میں سب سے پہلے ہم کاغذات ۱۸۵۷ء کاغذات پارلیمینٹ ۱۸۵۷ء پارلیمنٹ کا مطالعہ کرتے ہیں ان کا غذات میں لکھا ہے۔۲۴ ویں پلٹن میں جس میں بغارت سب سے اول اور نہایت کامل طور سے ظاہر ہوئی اور و ہیں سے وہ 19 پلٹن تک پہنچی ایک ہزار نواسی سپاہی تھے جن میں سے پورے آٹھ سو تین ہندو تھے۔ان میں سے ۳۳۵ بشمول ۴۱ ہندوستانی افسروں کے برہمن تھے۔اس پلیٹن میں ہندوستانیوں پر بڑا دباؤ براہمنوں کا ہے تعداد میں بھی زیادہ ہیں " پھر لکھا ہے۔تھوڑی ہی مدت میں یہ چر چا (کارتوسوں کا تمام ہندوستانی پلٹنوں میں جو کلکتہ کے قریب کے مقاموں میں تھیں پھیل گیا۔دن میں تو اس بات کی سرگوشیاں ہوتی تھیں اور رات کو براہمنوں کے گھروں میں مشورے ہوتے تھے " مغلیہ تاجدار بہادر شاہ ظفر کا حلفیہ بیان ان تحریرات کی روشنی میں آئیے اب مغلیہ حکومت کے آخری تاجدار سراج الدین بہادر شاہ ظفر کا وہ حلفیہ بیان پڑھیں جو آپ نے ۱۹ مارچ ۱۸۵۸ء کو دیوان خاص ( قلعہ دہلی) میں منعقدہ