تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 15
تاریخ احمدیت جلد ۶ 10 سامنے پیش کی گئی ہے۔غیر احمدی علماء اور مساجد کے درویش بازاروں میں برملا گالیاں دیتے اور احمدیوں کے مکانوں اور دکانوں کے آگے سیاپا کرتے اور دل آزار نعرے لگاتے ہوئے کوشش کرتے کہ کسی طرح فساد ہو جائے۔مگر احمدیوں نے ان کو قطعاً لا ئق التفات ہی نہ سمجھا اور صبر و تحمل سے پورا دن تبلیغ میں مصروف رہے۔حدید ہے کہ جناب مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے اپنے اخبار اہلحدیث " ( ۱۰/ مارچ " ۱۹۳۳ء) میں فخریہ انداز سے لکھا۔امر تسر میں پانچ مارچ کا دن دیکھنے کے قابل تھا۔بجائے اس کے کہ مرزائی ہندوؤں کو تبلیغ کرتے۔طلباء عربی مرزائیوں کو تلاش کر کر کے بازاروں ، گلیوں اور ان کے گھروں میں پکڑ کر تبلیغ حق کا حق ادا کرتے تھے "۔گویا بالفاظ مولوی صاحب یہ طریق اس لئے اختیار کیا گیا کہ احمدی ہندوؤں کو تبلیغ اسلام نہ کر سکیں۔ورنہ خاص اس دن جو احمدیوں نے خالصتہ غیر مسلموں میں تبلیغ کے لئے وقف کیا تھا احمدیوں کو تلاش کر کے اور پکڑ کر " تبلیغ کرنے کے کیا معنی ہو سکتے تھے۔آگرہ میں جماعت احمدیہ کے ایک وفد نے اچھوتوں کے لیڈر بابو کھیم چند صاحب سابق ایم ایل سی سے ساڑھے چار گھنٹے تک تبادلہ خیالات کیا۔بابو صاحب نے اقرار کیا کہ ان کی قومی ترقی کا راز قبول اسلام میں مضمر ہے۔جماعت احمد یہ شملہ اور دہلی کے متفقہ فیصلہ کے مطابق جماعت شملہ نے نئی دہلی کا علاقہ تبلیغ کے لئے مخصوص کیا اور گورنمنٹ آف انڈیا کے تقریباً تمام اسٹاف اسمبلی اور کونسل آف سٹیٹ کے تقریباً تمام ہندو ممبروں کو اردو اور انگریزی ٹریکٹ بھجوائے۔دو سو بنگالی اور بد راسی ہندو خصوصیت سے زیر تبلیغ رہے انگریزی ٹریکٹ وائسرائے چیف کمشنر دہلی اور ڈپٹی کمشنر دہلی کو بھی بھیجے گئے۔(حجتہ اللہ ) حضرت نواب محمد علی خان صاحب آف مالیر کوٹلہ نے کپور تھلہ کے سکھ رؤساء کو اردو اور انگریزی لڑ یچر دیا۔پشاور میں غیر مسلموں کا رد عمل بہت خوش کن تھا۔چنانچہ انہوں نے بعض احمدیوں کو اپنی سماجوں میں تقریر کی اجازت دی۔شاہ جہانپور میں ہندوؤں نے اسلام کا پیغام نہ صرف محبت اور توجہ سے سنا بلکہ یہ معلوم کر کے کہ احمدیوں نے محض ان کی بھلائی کے لئے آج اپنے کام کاج کو چھوڑ دیا ہے دھن باد کہا۔لائل پور میں قریباً ایک ہزار غیر مسلم اسلام سے روشناس کئے گئے۔بہاول پور میں علمائے سلسلہ