تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 14
تاریخ احمدیت۔جلد ۶ ۱۴ معززین قادیان کو قصر خلافت میں پھلوں کی پارٹی دی گئی جس میں سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے نہایت لطیف پیرایہ میں صداقت اسلام معلوم کرنے کا یہ طریق بتایا کہ۔وہ سچے دل سے دعا کریں اور سارے خیالات دل سے نکال کر خدا کے آگے جھکیں اور کہیں۔ہم ہر طرف سے منقطع ہو کر تجھ سے التجا کرتے ہیں کہ ہمیں ہدایت عطا کر۔اگر اب بھی ہماری دعانہ سنی گئی تو ذمہ داری ہم پر نہ ہو گی"۔اس تقریر سے مقامی غیر مسلم بہت متاثر ہوئے اور لالہ دولت رام ممبر سمال ٹاؤن کمیٹی نے ہنود اور اہل شہر کی طرف سے اس تقریب کے انعقاد پر شکریہ بھی ادا کیا اور مبارک باد بھی پیش کی۔20 قادیان کی مستورات نے بھی یوم التبلیغ میں سرگرم حصہ لیا اور ہندو سکھ عورتوں کے علاوہ خاکروب عورتوں کے گھروں میں جا کر تبلیغ اسلام کی۔بعض خواتین نواحی دیہات میں بھی گئیں۔امرتسر میں غیر احمدی علماء نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ احمدیوں کو غیر مسلموں میں تبلیغ نہیں کرنے دیں گے اس مقصد کے لئے احمدیت کے خلاف متواتر دو ہفتے تک جلسے کئے گئے۔ایک مقامی انجمن تبلیغ اسلام " نے اشتہارات شائع کئے اور ہندوؤں کو اکسایا گیا کہ احمدیوں کی بات نہ سنو کیونکہ ہم ان کو اسلام سے خارج کر چکے ہیں۔یہ (احمدی) ۵/ مارچ کو تمہارے گھروں پر ہلہ بولیں گے اور فساد کریں گے۔ہم مسلمان ذمہ دار نہیں ہوں گے مگر اس زبر دست مخالفت کے باوجود امرتسر کے احمدیوں نے باقاعدہ تنظیم کے ساتھ الگ الگ گروپ ترتیب دے کر غیر مسلم ایڈیٹروں ، مضمون نگاروں ، مذہبی پیشواؤں، وکیلوں ، ڈاکٹروں افسروں یا اعلیٰ حکام غرضیکہ ہر طبقہ کے لوگوں تک اسلام کا پیغام پہنچایا۔اس موقعہ پر مقامی جماعت نے پانچ ہزار کی تعداد میں (انگریزی، ہندی مور مکھی کے اشتہارات ٹریکٹ اور پمفلٹ اور ہینڈبل تقسیم کئے۔غیر مسلم حضرات بڑی خوش دلی اور محبت و تکریم سے پیش آئے اور تبلیغی لٹریچر بڑی مسرت اور قدردانی سے قبول کیا۔پنڈت کرتار سنگھ فلاسفر (ہندی گور لکھی، سنسکرت اور انگریزی کے فاضل) نے کہا کہ میں مسلمانوں کو ڈاکو سمجھتا تھا مگر حضرت مرزا صاحب کی کتاب "اسلامی اصول کی فلاسفی " کے ترجمہ " دی ٹیچنگ آف اسلام" نے میرے خیالات کی کایا پلٹ دی ہے۔اب مجھے اسلام آنحضرت ( ا ) اور احمدی جماعت سے بڑی عقیدت ہے۔اور حضرت مرزا صاحب کو ایک بہت بڑا بزرگ رشی مانتا ہوں اور کہا ہم نے تو حضرت مرزا صاحب کے طفیل اسلام کا صحیح فوٹو دیکھا ہے۔کبیر استھیوں کے استھان میں جب اسلام کی خوبیوں اور سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کا ذکر کیا گیا۔تو ان لوگوں نے جواب دیا کہ زندگی بھر میں آج پہلی دفعہ اسلام کی سچی تعلیم ہمارے