تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 295
تاریخ احمدیت جلد ۷ ۲۸۱ مناظرہ بڑھن وال (ضلع جالندھر) یہاں عیسائیوں نے اپنا کیمپ لگایا تھا۔غیر احمدیوں نے پادریوں کے سامنے اپنے علماء کو بے بس پا کر نکو در سے ایک احمدی عالم مولوی عبد العزیز صاحب مولوی فاضل کو بلایا جنہوں نے کیمپ میں مسئلہ کفارہ کے موضوع پر مناظرہ کر کے پادریوں کو ساکت کر دیا۔۶۵۰ مناظرہ دہلی: یکم فروری ۱۹۳۴ء کو جماعت احمدیہ دہلی کا آریہ سماج چاوڑی بازار کے ساتھ "مکتی" پر کامیاب مناظرہ ہوا۔جماعت احمدیہ کی طرف سے ماسٹر محمد حسن صاحب آسان منا ظر تھے۔بعض ہندوؤں نے بھی اقرار کیا کہ احمدی مناظر اپنے طرز بیان اور دلائل کے لحاظ سے آریہ سماجی مناظر پر غالب رہا۔مناظرہ کراچی: یہاں ۴ فروری ۱۹۳۴ء کو مولوی محمد سلیم صاحب نے لال حسین صاحب اختر اور احمد دین صاحب سے مناظرہ کیا اور خدا کے فضل سے مخالفین کے معاندانہ رویہ کے باوجود نمایاں ۲۵۲ کامیابی حاصل کی۔مناظرہ اچہ حجہ (ضلع سیالکوٹ) ۵-۶-۷ / مارچ ۱۹۳۴ء کو مولوی محمد عبد اللہ صاحب اور مولوی دل محمد صاحب نے غیر احمدیوں سے مباحثہ کیا۔احمدی مبلغین کے ٹھوس دلائل کا جواب بد زبانی کی tor صورت میں دیا گیا۔مناظرہ بٹالہ : انجمن خادم المسلمین اہلحدیث بٹالہ کے سالانہ جلسہ منعقدہ ۱۲ تا ۱۴/ مارچ ۱۹۳۴ء) میں مولوی ثناء اللہ صاحب کی تقریر کے بعد سوال و جواب کا موقعہ دیا گیا۔جس میں مرکز کی طرف سے مولوی محمد سلیم صاحب فاضل نے حصہ لیا۔مولوی ثناء اللہ صاحب اپنے عنوان ” قرآن اور مسیح موعود قادیانی" کے مطابق قرآن مجید سے حضرت اقدس کے خلاف ایک دلیل بھی پیش نہ کر سکے۔مناظرہ لالہ موسیٰ: انجمن اہلحدیث لالہ موسیٰ نے احمدیوں سے طے کیا کہ وہ ۲۲- ۲۳ / مارچ ۱۹۳۴ء کو تین متنازعہ مسائل پر مناظرہ کریں گے۔چنانچہ اس فیصلہ کے مطابق ۲۲ مارچ کو مولوی محمد سلیم صاحب نے لال حسین صاحب اختر سے مسئلہ وفات و حیات مسیح اور صداقت مسیح موعود پر ایسا شاندار مناظرہ کیا کہ دوسرے دن فریق ثانی کو مسئلہ ختم نبوت پر بحث کرنے کی جرات ہی نہ ہو سکی۔۲۵۵ مناظرہ چوہد ریوالہ چک نمبر ۱۰۸) ضلع لائلپور) اس گاؤں میں عیسائیوں نے مسلمانوں کو تنگ کر رکھا تھا مسلمانوں کی دعوت پر مولانا قاضی محمد نذیر صاحب فاضل تشریف لے گئے اور ایک پادری