تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 291
تاریخ احمدیت۔جلد ؟ پہلا باب (فصل چهاردهم) ۱۹۳۴ء کے متفرق مگر اہم واقعات دار التبلیغ مشرقی افریقہ کے تفصیلی کوائف کا تذکرہ کرنے کے بعد اب ہم ۱۹۳۴ء کے متفرق مگر اہم واقعات کی طرف لوٹتے ہیں۔حضرت صاحبزادہ حافظ مرزا ناصر احمد صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ اور مرزا سعید امتحان میں کامیابی احمد صاحب (خلف حضرت صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحب ایم اے) نے پنجاب یونیورسٹی سے بی۔اے کا امتحان پاس کیا۔12 ۲۶ اگست ۱۹۳۳ء کو سیدہ ناصرہ بیگم صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب کی شادی صاحبہ (بنت سیدنا حضرت خلیفتہ اسی الثانی کی تقریب رخصتانہ عمل میں آئی۔50 آپ کا نکاح ۲ جولائی ۱۹۳۳ء کو حضرت اقدس نے صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب ( حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب کے فرزند) کے ساتھ پڑھا تھا۔سیدہ موصوفہ کے بطن سے یہ اولاد ہوئی۔صاحبزادی امتہ الرؤف صاحبہ۔مرزا ادریس احمد صاحب صاحبزادی امتہ القدوس صاحبہ - مرزا مغفور احمد صاحب - مرزا مسرو راحمد صاحب ۱۹ فروری ۱۹۳۴ء کو ایک ایرانی سیاح ابو القاسم خاں صاحب ایرانی سیاح قادیان میں قادیان پہنچے اور مسجد اقصیٰ میں اپنے حالات سفر پر فارسی زبان میں روشنی ڈالی۔اور مکرم اللہ بخش صاحب ضیاء نے ان کی تقریر کا فی البدیہہ اردو میں نہایت عمدگی سے ترجمہ سنا دیا۔مولوی محمد اسمعیل صاحب یادگیر کی مراجعت وطن ای سال مولوی محمد اسمعیل صاحب اپنی تعلیم سے فراغت پا کر قادیان سے اپنے وطن یاد گیر (حیدر آباد دکن) چلے گئے وہاں جا کر آپ نے مسجد احمد یہ یاد گیر میں درس و تدریس جاری کیا۔حضرت سیٹھ عبد اللہ الہ دین صاحب کے کاموں میں امداد کی۔صحابہ جنوبی ہند