تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 281
تاریخ احمدیت۔جلد ان کے درمیان تقسیم کر دئے جائیں تاکہ عوام الناس کے سامنے یسوع اور خدا کا مقابلہ ہو جائے۔رائے گٹاف سن کو جو گراہم کے ساتھ تھے یاد ہے کہ اس چلینج پر ٹیلیفون بجنے لگے۔پریس والے اور دیگر لوگ یہ معلوم کرنا چاہتے تھے کہ گراہم کیا اقدام کریں گے۔لیکن گراہم قدرے برہم ہو کر تند لہجے میں صرف یہ جواب دیتے کہ کوئی تبصرہ نہیں کوئی تبصرہ نہیں"۔مسٹر گسٹاف سن کہتے ہیں کہ آخر ہمیں امریکہ سے بھی تاریں اور خطوط آنے لگے ، خاص طور پر فرقہ Pentecost کے لوگوں کی طرف سے کہ " آگے بڑھو اور چیلنج قبول کر لو۔ان پر روشن کردو کہ ایلیاء کا خدا اب بھی زندہ ہے"۔لیکن بلی گراہم محض یسوع کی اس تمثیل کا حوالہ دینے پر اکتفاء کرتے کہ ”اگر وہ موسیٰ اور نبیوں کی نہیں سنتے اور نہ ہی ان کو قائل کیا جائے گا اگر چہ کوئی مردوں سے جی اٹھے۔کمپالہ (یو گنڈا) میں تعمیر مسجد محمود مسجد سلام کے افتتاح پر سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے یوگنڈا میں تعمیر مسجد کی خواہش کا اظہار فرمایا تھا جس کی تعمیل میں ۱۹ اگست ۱۹۵۷ء کو مسجد کمپالہ کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا۔یہ مسجد ۱۹۶۲ء میں مکمل ہوئی 1 اور اس کا افتتاح حضرت چودھری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے فرمایا۔اس مسجد کے اکثر و بیشتر اخراجات محمد اکرم غوری صاحب نے ادا کئے۔مشرقی افریقہ کے نظام تبلیغ میں تبدیلی دار تبلیغ شرقی افریقہ کادائرہ عمل نہایت وسیع تھا۔جس میں چار مستقل ممالک کینیا یو گنڈا ٹانگا نیکا اور زنجبار شامل تھے اور چاروں ممالک آزاد ہو رہے تھے۔اس لئے بدلتے ہوئے حالات کے مطابق یکم مئی ۱۹۶۱ء سے ان ممالک کا تبلیغی نظام بھی علیحدہ علیحدہ قائم کر دیا گیا۔ٹانگا نیکا: نئے نظام کے تحت ٹانگانیکا کے امیر اور انچارج مشن مولوی محمد منور صاحب فاضل مقرر کئے گئے۔زنجبار کا الحاق ٹانگانیکا کے ساتھ ہو گیا اور ملک کا نام تنزانیہ رکھ دیا گیا۔اس وقت تنزانیہ مشن کے تین تبلیغی حلقے ہیں۔(1) ٹٹورا میں اس وقت مولوی عبدالرشید صاحب رازی اس مشن کے انچارج ہیں۔(۲) ٹانگا شہر جہاں حال ہی میں مسجد اور مشن کی تعمیر ہوئی ہے۔موجودہ مشن انچارج شیخ ابو طالب عیدی ساندھی ہیں۔(۳) بکو بائیں حافظ محمد سلیمان صاحب انچارج ہیں۔(۴) دار السلام تنزا یہ کادارلحکومت ہے اور انچارج مبلغ کا ہیڈ کوارٹر بھی یہی ہے۔کینیا: نئے نظام کے ماتحت کینیا کے امیر اور مبلغ انچارج مکرم شیخ مبارک احمد صاحب مقرر ہوئے