تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 276 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 276

تاریخ احمدیت جلد ۶ ۲۶۲ مسلمانان مشرقی افریقہ کی تعلیمی ترقی کے لئے جدوجہد افریقن مسلمانوں کی تعلیم کا سوال اسلام کی ترقی و استحکام کے ساتھ گہرا تعلق رکھتا ہے۔اس لئے احمد یہ مشن مشرقی افریقہ نے اپنے محدود ذرائع کے باوجود اس طرف شروع سے خاص توجہ کی ہے۔ممباسہ میں افریقن مسلمان آبادی چالیس ہزار کے قریب ہے مگر تعلیم سے بے بہرہ ہونے کی وجہ سے لیجسلیٹو کونسل کے لئے ایک بھی مسلمان کھڑا نہیں ہو تا تھا۔مولوی نور الدین صاحب منیر ( کینیا کے احمدی مبلغ نے اعلیٰ سرکاری افسروں سے ملاقات کی اور ان کو توجہ دلائی کہ وہ افریقن مسلمانوں کی تعلیم کے لئے سہولتیں بہم پہنچا ئیں۔اس کے علاوہ آپ نے پریس میں ممباسہ کے مسلمان بچوں کے اعداد و شمار دیئے جس میں بتایا کہ دس ہزار بچے تعلیم سے محروم ہیں۔اس جدوجہد کا نتیجہ یہ ہوا کہ جنوری ۱۹۵۷ء سے ایک نیا سکول جاری ہو گیا جس میں افریقن مسلمانوں نے خاصی تعداد میں بچے بھجوائے اور حکومت ممباسہ نے افریقن مسلم سوسائٹی کو مالی امداد دینے کا بھی وعدہ کیا۔علاوہ ازیں مسلمان افر- مقنوں کی تعلیم کے لئے ٹانگانیکا اور یوگنڈا کے مبلغین نے بے حد کوشش کی۔اخبار ”ایسٹ افریقن ٹائمز" مئی ۱۹۵۷ء سے جماعت احمد یہ مشرقی افریقہ کی طرف سے انگریزی ماہنامہ ”ایسٹ افریقن ٹائمز " جاری کیا گیا۔جو + A جلد ہی پندرہ روزہ اخبار کی صورت میں شائع ہونے لگا۔اخبار کے پہلے ایڈیٹر مولوی نور الدین صاحب منیر مقرر کئے گئے۔جنہوں نے اس کی ادارت کے فرائض انجام دینے کے علاوہ اس کی اشاعت کی طرف خاص توجہ کی۔افریقن مسلمان تعلیم کے لحاظ سے بہت پیچھے تھے۔جس کی وجہ یہ تھی کہ سب اسکول عیسائی مشنوں کی طرف سے جاری کئے گئے تھے اور وہاں عموماً مسلمانوں کو داخلہ نہیں ملتا تھا۔حکومت کی تعلیمی پالیسی تھی کہ جو مقامی ادارہ سکول جاری کر کے ایک سال تک کامیابی سے چلا کر دکھا دے اسے سو فیصدی گرانٹ دی جائے گی اس پالیسی کا نتیجہ یہ تھا کہ سارے اسکول عیسائی مشنوں کے تھے اور مسلمان ایک سکول بھی جاری نہ کر سکتے تھے کیونکہ ان کے پاس نہ سرمایہ تھانہ ٹرینڈ استاد - ایسٹ افریقن ٹائمز نے افریقن مسلمانوں میں تعلیمی لحاظ سے بیداری پیدا کرنے کی جدوجہد کی بلکہ حکومت کو بھی توجہ دلائی کہ اس کی تعلیمی پالیسی جانبدارانہ ہے اور اسے مسلمانوں کے لئے علیحدہ اسکول جاری کرنے چاہئیں۔