تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 277 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 277

تاریخ احمدیت جلد ۲ چنانچہ اس کے خاطر خواہ نتائج پیدا ہوئے۔شروع ۱۹۵۸ء میں برطانیہ نے کینیا میں ایک دستور نافذ کیا۔جس کی رو سے قانون ساز اسمبلی میں افر قنوں کے لئے چار ایسی نشستیں مقرر کی گئیں جن کا انتخاب دستور ساز اسمبلی کے ذمہ تھا اور جس میں اکثریت یورپین ممبروں کی تھی۔اسمبلی کے افریقن ممبروں نے ایک بیان میں ایسے افریقنوں کو جو ان نشستوں کے لئے کھڑے ہوں غدار قرار دیا۔یہ بیان ایسٹ افریقن ٹائمز میں بھی شائع کیا گیا۔حکومت نے افریقن لیڈروں کے ساتھ اس اخبار پر بھی مقدمہ دائر کر دیا۔یہ مقدمہ نیروبی میں ڈیڑھ ماہ تک جاری رہا مشن کی طرف سے محترم ملک احمد حسن صاحب اور ملک عبد القادر صاحب نے اس کی پیروی کی۔عدالت نے مولوی نور الدین صاحب منیر (ایڈیٹر) اور مولوی محمد منور صاحب پر معمولی جرمانہ تو کر دیا لیکن اخبار کو شہرت کے لحاظ سے بہت فائدہ ہوا۔مقدمہ کی ہر پیشی پر نہ صرف ریڈیو نے ساری روداد نشر کی بلکہ مشرقی افریقہ کے سب مقتدر "روزنامے بھی اس کی خبر نمایاں طور پر شائع کرتے رہے۔نتیجہ یہ ہوا کہ ایسٹ افریقن ٹائمز " دور دور علاقوں میں مشہور ہو گیا۔اور افریقنوں نے اسے خوب سراہا کہ اس نے ان کی جدوجہد آزادی میں افری مقنواں کے دوش بدوش ساتھ دیا ہے۔ایسٹ افریقن ٹائمز " اب تک باقاعدگی سے شائع ہوتا ہے اور اپنی عمدگی و نفاست اور مضامین کی ندرت کے باعث نہ صرف مشرقی افریقہ بلکہ سارے افریقہ میں بڑا مقبول ہے مسٹر صفری جے نشر " نے اپنی تصنیف ”احمدیت افریقہ میں " اس کا ذکر تعریف آمیز الفاظ میں کیا ہے۔محترم قاضی عبد السلام صاحب بھٹی اور قاضی کبیر احمد صاحب بھٹی شروع سے ہی اس اخبار کی تدوین و اشاعت میں امداد کرتے رہے اور قاضی عبد السلام صاحب بھٹی تو ۱۹۶۳ء سے لے کر ۱۹۶۶ء تک اس کے ایڈیٹر بھی رہے۔۲۷ / جولائی ۱۹۵۷ء کو مسجد جنجہ کی اور جنجہ (یو گنڈا) میں مسجد اور مشن ہاؤس کی تعمیر اگست ۱۹۵۷ء میں اس کے مشن ہاؤس کی بنیاد رکھی گئی۔ٹبورا کی طرح یہاں بھی لوگوں نے مسجد کا بائیکاٹ کیا۔مگر اللہ تعالی نے جماعت کی مخلصانہ کوششوں میں برکت ڈالی اور یہ دونوں عمارتیں ۱۹۵۹ ء میں مکمل ہو گئیں۔جنجہ کی جماعت نے عموماً اور حافظ بشیر الدین عبید اللہ صاحب مبلغ مقامی اور بھائی محمد حسین صاحب کھو کھر صد ر جماعت نے خصوصاً اس کی تعمیل میں نمایاں حصہ لیا۔٩٠٩ ممباسہ میں مسجد کی تعمیر یہ مسجد مباسہ کے محلہ مکو پامیں ایک فری ہولڈ پلاٹ پر تعمیر کی گئی اس کے لئے ایک مخلص احمدی خاتون سیده مرجان صاحبہ (اہلیہ سید