تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 275
تاریخ احمدیت۔جلد ؟ وزیر اعظم چل کر آپ کے پاس آئے اور آپ سے بغل گیر ہو کر نہایت مدلل اور کامیاب تقریر پر آپ کو مبارکباد دی۔اخبارات نے آپ کی تقریر کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ ہاؤس میں ایسی عمدہ تقریہ آج تک نہیں ہوئی۔یورپی اور ایشیائی باشندوں نے بھی آپ کی تقریر کو بہت سراہا اور بعض کی زبان سے بے ساختہ نکلا کہ یہ احمدیہ مشن ہی کا ایک ثمرہ ہے۔آپ کا ایک کارنامہ یہ بھی ہے کہ آپ نے ٹانگانیکا میں عید الاضحی کی تعطیل عام کا سوال اٹھایا اور حکومت نے یہ مطالبہ تسلیم کر لیا۔اسی طرح انہی کے زور دینے پر یہ فیصلہ بھی ہوا کہ جمعہ کے دن سرکاری دفتروں میں مسلمان ملازمین کو بارہ بجے کے بعد رخصت ہو گی۔۱۹۶۲ء کے شروع میں ہی آپ ٹانگانیکا کے مغربی صوبہ کے ریجنل کمشنر مقرر کر دیئے گئے۔۱۲/ مارچ ۱۹۶۳ء کو ٹانگانیکا کے وزیر انصاف مقرر کئے گئے۔۱۹۷۴ء کے شروع سے جب زنجبار کا علاقہ ٹانگا نیکا سے ملا دیا گیا تو انہیں تعمیر قومی و ثقافت ملیہ کی وزارت سونپی گئی۔اس عہدہ پر فائز ہونے کے بعد آپ کی صحت خراب ہونے لگی اور مغربی جرمنی کے شہربان میں قریباً دو ماہ زیر علاج رہنے کے بعد ۹ / اکتوبر ۱۹۶۴ء کو انتقال کر گئے۔اناللہ وانا اليه راجعون آپ ۱۶/ اکتوبر ۱۹۶۴ء کو پورے فوجی اعزاز کے ساتھ احمد یہ قبرستان چنگو ہے کے قطعہ موصیان میں دفن کئے گئے۔آپ کے جنازہ میں ٹانگانیکا کے صدر اور کینیا اور یوگنڈا کے وزرائے اعظم اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شامل ہوئے اور ٹانگانیکا اور زنجبار ریپبلک کے صدر مملکت ڈاکٹر جو لٹئیس نیر بیرے نے کہا۔"ہم میں سے ان بہت سے لوگوں کے لئے جن کے ایک لمبے عرصہ سے ان کے ساتھ دوستانہ مراسم تھے ان کی وفات ایک ذاتی نقصان کی حیثیت رکھتی ہے مزید بر آں ان کی وفات ہماری قوم کے لئے بھی ایک عظیم نقصان ہے ان کی عظیم لیا قتیں اور ان کی خدمات بلا پس و پیش اس ملک کے لوگوں کے لئے ہمیشہ وقف رہیں۔ہم اپنے درمیان اس خلاء کو برداشت کرنے کی تاب نہیں رکھتے۔۶۰۴ مسجد دار السلام کی تعمیر ۱۹۵۵ء میں ٹانگانیکاکے دار الحکومت دار السلام میں مسجد کی بنیادر کھی گئی اس وقت مولوی جلال الدین صاحب قمر اور مولوی عبد الکریم صاحب شرم دار السلام میں متعین تھے۔یہ مسجد ایک لاکھ شلنگ کے خرچ سے مکمل ہوئی اور ۱۵/ مارچ ۱۹۵۷ء کو اس کا افتتاح ہوا۔حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی نے اس موقعہ پر ایک اہم پیغام ارسال فرمایا۔جس میں اس خواہش کا اظہار فرمایا کہ ” میں یوگنڈا کے علاقہ میں بھی مسجد کی تعمیر کی خوشخبری سننے کا منتظر ہوں"۔