تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 258 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 258

تاریخ احمدیت جلد ۲ بهم نم مهر دار الحکومت دار السلام میں با قاعدہ جماعت قائم ہوئی اور خاص طور پر میاں محمد بخش صاحب ( ریلوے ڈرائیور) بابو محمدایوب صاحب بابو محمد جمیل صاحب ، ڈاکٹر حبیب اللہ خان صاحب، ڈاکٹر احمد دین صاحب اور فضل کریم صاحب لون عبد الکریم صاحب ڈار مرحوم اور مختار احمد صاحب ایاز جیسے مخلص احمدیوں کی مالی قربانیاں اور تبلیغی کوششوں سے اس جماعت نے بڑا نام پیدا کیا۔موخر الذکر دونوں بزرگوں کو ایک لمبا عرصہ ٹانگانیکا (تنزانیہ) میں تکالیف دی گئیں مگروہ اللہ تعالٰی کے فضل سے مضبوط چٹان بن کر تبلیغی سرگرمیوں میں مشغول رہے۔ٹانگانیکا میں دوسرا مقام جہاں ہندوستانی احمدیوں کی ایک پر جوش جماعت قائم ہوئی۔ٹبورا تھا۔یہ جماعت اپنے اخلاص و محبت اور تبلیغی مساعی میں بہت آگے نکل گئی اور بہت جلد نیروبی میرو ممباسہ کسوموں اور کمپالہ کے دوش بدوش خدمات سلسلہ بجالانے لگی۔نیروبی میں احمدیہ پریس کا قیام اور سلسلہ اشتہارات کا آغاز نیروبی ۵۱۰ میں ۳۳- ۱۹۳۲ء میں مخالفین احمدیت کی طرف سے خاص طور پر نہایت کثرت سے گندہ لٹریچر شائع کیا گیا۔قادیان سے جوابات چھپوا کر یہاں منگوانے میں بہت دیر ہو جاتی تھی اور نیروبی میں کوئی اردو پریس نہیں تھا۔اس لئے جماعت احمد یہ نیروبی نے ایک سائیکلو سٹائل مشین کا انتظام کیا۔مگر مستعمل ہونے کی وجہ سے یہ مشین کام نہ دے سکی۔اس سے پہلے قاضی عبد السلام صاحب بھٹی ایک گلیسرین پریس تیار کر کے کچھ کام چلاتے رہے۔مگر اس سے جماعتی ضروریات پوری نہیں ہو سکتی تھیں۔اس لئے جماعت نے اپنی ایک پرانی طرز کی لیتھو ہینڈ پریس مشین کو جو نا قابل استعمال اور خستہ حالت میں پڑی تھی۔از سرنو درست کرایا اس کام میں یوگنڈا اور دار السلام کے احمدیوں نے بھی کسی قدر مدد دی۔یکم جون ۱۹۳۴ء کو اس پریس کا اجراء ہوا اور سب سے پہلا اشتہار " صداقت کی چمک " کے عنوان سے شائع کیا گیا۔یہ پریس احمدیہ مسجد نیروبی کے مشرق کی طرف کی ایک کو ٹھری میں نصب کیا گیا اور ساتھ کی دوسری کو ٹھری میں پریس کا سامان رکھا گیا۔قادیان سے کاپی کی سیاہی اور کاغذ منگوائے گئے پتھر کے وزن کی وجہ سے مشین آسانی سے نہیں چلتی تھی اس لئے مخلصین جماعت خصوصا شیر محمد صاحب ہٹ قاضی عبد السلام صاحب کا ہاتھ بٹاتے تھے۔ان اشتہاروں کی تقسیم بھائی شیر محمد صاحب بٹ اور عبد العزیز صاحب قریشی علمی نے اپنے ذمہ لگا رکھی تھی۔محترم قاضی عبد السلام صاحب کا بیان ہے کہ یہ اشتہارات خاکسار ہی لکھتا یا سلسلہ کے لٹریچر سے اخذ کرتا تھا۔اور میگاڑی سے حضرت ڈاکٹر ید رالدین احمد صاحب مرحوم بھی لکھ کر بھیجا کرتے تھے۔2