تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 259
تاریخ احمدیت جلد ۶ ۲۴۵ اخبار الھدی " کا اجراء اشتہارات کا یہ وسیع سلسلہ ۱۹۳۶ء کے اوائل تک زور شور سے جاری رہا۔اس کے بعد اس کی بجائے " الہدی " نام سے ایک ہفتہ وار اخبار ملک احمد حسین صاحب کے زیر انتظام جاری کیا گیا۔اس اخبار کا پہلا پرچہ ۲۳/ جولائی ۱۹۳۶ء کو شائع ہوا۔اخبارات کی کتابت و طباعت کا تمام کام محمد اکرم صاحب غوری، سید عبدالرزاق شاه صاحب اور ملک احمد حسین صاحب انجام دیتے تھے اور اخبار کی ترسیل کی خدمت شیخ غلام فرید صاحب سیکرٹری کے سپرد تھی۔ان کے معاون بابو غلام محمد صاحب تھے۔مضامین لکھنے والوں میں مولانا شیخ مبارک احمد صاحب ، ملک احمد حسین صاحب ، شیخ غلام فرید صاحب نمایاں تھے۔اس اخبار کے بعض مضامین سے مخالفین میں شور پڑ گیا اور قانونی کارروائی کے لئے اخبار کے ایڈیٹرو غیرہ کو نوٹس دیئے گئے۔لیکن سارا معاملہ محض نوٹسوں تک ہی محدود رہا اور مخالفین کو احساس ہو گیا کہ احمدیوں کے ہاتھوں میں بھی قلم ہے۔آخر دس نمبروں کے بعد بعض وجوہ کی بناء پر اخبار بند ہو گیا اور ساتھ ہی اشتہارات کا سلسلہ بھی ایک عرصہ تک بند رہا۔۵۱۴ انجمن حمایت اسلام نیروبی کی طرف سے رد عمل جماعت احمدیہ نیروبی کے جوابی اشتہارات اور تبلیغی جدوجہد کا رد عمل یہ ہوا کہ نیروبی کی انجمن حمایت اسلام نے احمدیوں کے مقابلہ کے لئے ہندوستان سے مبلغ بلوانے کا فیصلہ کیا اور ۱۵ اگست ۱۹۳۴ء کو جناب مولوی ظفر علی خاں صاحب مدیر اخبار "زمیندار" (لاہور) سے بذریعہ خط درخواست کی کہ آپ کسی موزوں شخص کا انتخاب فرما ئیں ان کا جو اب ۵ / ستمبر ۱۹۳۴ء کو موصول ہوا کہ وہ مولوی لال حسین صاحب اختر کی سفارش کرتے ہیں چنانچہ انجمن مذکور نے ۳۰ ستمبر ۱۹۳۴ء کے اجلاس میں یہ سفارش قبول کرلی اور ان کے مصارف سفر (سیکنڈ کلاس) کے لئے تین سو روپیہ کا چیک روانہ کر دیا گیا۔DD اور یہ صاحب جلد ہی مشرقی افریقہ پہنچ گئے۔مستقل مشن کا قیام جماعت احمدیہ نیروبی کے غیور افراد نے "انجمن حمایت اسلام" کی بڑھتی ہوئی مخالفانہ سرگرمیوں کو اپنے لئے ایک چیلنج سمجھتے ہوئے نظارت دعوۃ و تبلیغ قادیان سے درخواست کی کہ ہم اپنے خرچ پر ایک مبلغ چھ ماہ کے لئے منگوانا چاہتے ہیں نظارت کی طرف سے معاملہ پیش ہونے پر سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے مکرم شیخ مبارک احمد صاحب کو مشرقی افریقہ بھیجنے کا ارشاد فرمایا۔اس فیصلے کے مطابق آپ ۱۱/ نومبر ۱۹۳۴ء ان کو تین بجے بعد دو پھر قادیان سے روانہ ہوئے۔۱۵/ نومبر کو بمبئی سے (TAKLI WA نامی جہاز پر سوار ہوئے۔اور ۲۷/ نومبر کو بخیریت نیروبی F