تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 257 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 257

تاریخ احمدیت۔جلد ؟ ۲۴۳ صاحب۔سیٹھ احمد الدین صاحب اور محمد ابراہیم و محمد افضل ٹھیکیداران کی ہیں۔جناب بابو نور احمد صاحب نے باوجود جمعداری کے عہدہ پر ہونے کے اور ۳۰ روپے تنخواہ پانے کے اپنی تین سالہ ملازمت میں چار سو روپیہ روانہ کیا۔اور ایک صاحب میاں مصاحب دین کمپونڈر نے جو کہ ابھی تک اگر چہ جماعت احمدیہ میں شامل نہیں ہوئے اور صرف حسن ظن رکھتے ہیں اور جو کہ اپنی تین سالہ ملازمت کا بقیہ اندوختہ لے کر ہندوستان برخصت پر اپنے گھر جانے والے تھے۔ایک دفعہ صرف یہ خبر سن کر کہ حضرت مرزا صاحب کو خدمت دین کے لئے روپیہ کی سخت ضرورت ہے بڑی عالی ہمتی اور دریا دلی سے اپنی رخصت کو منسوخ کرا دیا اور کل اندوخته روپیہ دینی خدمت کے لئے چندہ میں دے دیا"۔خلافت ثانیہ کے ابتدائی سالوں میں کینیا کالونی کے علاقہ میں ہندوستانی احمدیوں کی آمد کا سلسلہ زور پکڑ گیا۔اور تبلیغ کا دائرہ بھی وسیع سے وسیع تر ہونے لگا۔چنانچہ میگاڑی (MAGADI) میں حضرت ڈاکٹر بدر الدین احمد صاحب عرصہ تک دیوانہ دار تبلیغی جہاد میں مصروف رہے اور نیروبی میں حضرت - - معراج الدین صاحب - حضرت ڈاکٹر عمر الدین صاحب، مولانا عبد الواحد صاحب جہلمی۔حضرت، بھائی دوست محمد صاحب علمی۔قاضی عبد السلام صاحب بھٹی ، حضرت سید محمود اللہ شاہ صاحب سید عبد الرزاق شاہ صاحب محمد اکرم خان صاحب غوری، چوہدری نثار احمد صاحب شیخ غلام فرید صاحب، بھائی عبدالرحیم صاحب ٹیلر ماسٹر ، بھائی شیر محمد صاحب بٹ ، ملک احمد حسین صاحب، سید یوسف شاہ صاحب عبد العزیز صاحب علمی ، چوہدری محمد شریف صاحب بی۔اے اور دو سرے مخلصین کے وجود سے جماعت احمدیہ کو بہت تقویت ملی۔اسی طرح ڈاکٹر سید ولایت شاہ صاحب کٹوئی (KITUI) میں عمر حیات خاں صاحب کسو مو میں اور بھائی اکبر علی صاحب اور بابو محمد عالم صاحب ممباسہ میں پیغام حق پہنچاتے رہے۔۵۰۸ یوگنڈا میں پیغام احمدیت خلافت اولی کے آخری سال یا خلافت ثانیہ کے آغاز میں پہنچا جبکہ سب سے پہلے ڈاکٹر فضل الدین صاحب وہاں پہنچے آپ کے بعد ڈاکٹر احمد دین صاحب اور ڈاکٹر لعل دین صاحب نیز بھائی محمد حسین صاحب کھو کھر او ر ہا ہو نذیر احمد صاحب کھو گھر بھی تشریف لے ابو گئے اور اس طرح ایشیائی احمدیوں کی ایک جماعت کا وہاں آ ہو گیا۔ٹانگا نیکا بہت دیر کے بعد احمدیت سے روشناس۔اگر چہ ہندوستانی احمدیوں کی مختصری جماعت شروع میں اس علاقہ کے مختلف مقامات پر پھیلی ہوئی تھی۔مگر کوئی باقاعدہ نظام نہیں تھا۔آخر بابو محمد یوسف صاحب پوسٹ ماسٹر اور بعض دوسرے احمدیوں کی کوشش اور ہمت سے ٹانگا نیکا کے