تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 5
تاریخ احمدیت جلد ۷ اقرار کیا گیا وہ مصر تھا۔چنانچہ قاہرہ کے اخبار " الفتح " (۲۰/ جمادی الاخر ۱۳۵۱ھ مطابق ۲۲ / اکتوبر ۱۹۳۲ء) نے جماعت احمدیہ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا۔نظرت فاذا حركتهم أمر مدهش فانهم رفعوا أصواتهم و اجروا اقلامهم باللغات المختلفة وايد وادعوتهم ببذل المال في المشرقين و المغر بين في مختلف الاقطار والشعوب و نظموا جمعياتهم وصدقوا الحملة حتى استفحل امر هم و صارت لهم مراكز دعاية في اسيا و اروبا و امریکا و افريقية تساوی علما و عملا جمعیات النصارى واما فى التاثير والنجاح فلا مناسبة بينهم وبين النصارى فالقاديانيون اعظم نجاحا لما معهم من حقائق الاسلام و حكمه۔ترجمہ: میں نے دیکھا ہے کہ قادیانی تحریک ایک حیرت انگیز چیز ہے قادیانیوں نے تقریری اور تحریری طور پر مختلف زبانوں میں اپنی آواز بلند کی ہے۔نئی اور پرانی دنیا کے مشرق و مغرب میں مختلف ملکوں اور قوموں میں بذل مال کے ذریعہ اپنی تبلیغ کو تقویت پہنچائی ہے۔انجمنیں اور جمعیتیں مرتب کر کے زبر دست حملہ کیا ہے یہاں تک کہ ان کا معاملہ عظیم الشان ہو گیا۔اور ایشیا، یورپ، امریکہ اور افریقہ میں ان کے تبلیغی مرکز قائم ہو گئے۔جو ہر طرح سے علمی اور عملی طور پر عیسائیوں کے مشنوں کے ہم پلہ لیکن تاثیر اور کامیابی کی رو سے ان میں اور مسیحیوں میں کچھ نسبت نہیں۔کیونکہ قادیانی اسلامی حقائق اور حکمتوں کی وجہ سے عیسائیوں سے بدرجہا زیادہ کامیاب ہیں۔پھر لکھا۔" ولا ينقضی عجبی من هولاء الرجال الذين بلغوا في علو الهمم والعلوم الكونية مبلغا ما لم تبلغه حتى الان آية فرقة اسلامية كيف الخدعوا بما اخترعه غلام احمد القادياني من الحيل والمخارق"۔یعنی میرے تعجب کی کوئی انتہا نہیں رہتی جبکہ میں ان لوگوں (جماعت احمدیہ کے افراد) کو جو علو ہمت اور علوم جدید میں اس درجہ ترقی کر گئے ہیں کہ آج تک کوئی اسلامی فرقہ وہاں تک نہیں پہنچادیکھتا ہوں کہ یہ لوگ مرزا غلام احمد قادیانی کے ایجاد کردہ حیلہ و فریب سے کس طرح دھو کہ کھا گئے ہیں۔پھر لکھا ہے:۔" والذي يرى اعمالهم المدهشة ويقدر الامور حق قدرها لا يملك نفسه من الدهشة و الاعجاب بجهاد هذه الفرقة القليلة التي عملت مالم تستطعه مئات الملايين من المسلمين وقد جعلوا جهادهم هذا ونجاحهم اكبر معجزة تدل على صدق ما يزعمون وساعدهم على ذلك موت غيرهم ممن ينتسب الى الاسلام"۔